وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ تمام زبانیں بولنے والوں کا مشترکہ گھر ہے اور اس دھرتی نے ہمیشہ ہر آنے والے کو اپنایا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ سندھ کو دل سے قبول کریں کیونکہ یہ محبت، رواداری اور بھائی چارے کی سرزمین ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں مختلف زبانیں بولنے والے عوام کے نمائندے موجود ہیں اور ایوان میں اپوزیشن کو نہ صرف برابر بلکہ کئی مواقع پر حکومت سے بھی بہتر اظہارِ خیال کا موقع دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری روایات کے فروغ کے لیے حکومت ہر رکن کے حق کا احترام کرتی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے مالی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ مالی سال سندھ کو 2095 ارب روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم بعد ازاں ایف بی آر نے یہ رقم کم کرکے 1926 ارب روپے کر دی، جس کے باعث صوبے کو تقریباً 150 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک سندھ کو 1750 ارب روپے موصول ہوئے ہیں جبکہ باقی رقم کی ادائیگی کا انتظار ہے اور مالی سال کے اختتام پر اصل صورتحال واضح ہو جائے گی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 8.48 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ مالی سال میں سندھ کی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ رکھا گیا ہے اور ایک ہزار سے زائد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے، جن سے عوام کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ملکی دفاع ہر پاکستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت سندھ نے بھی وفاق کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔
اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ کی اپوزیشن وفاقی حکومت کی اتحادی ہے، اس لیے صرف تنقید کے بجائے وفاق سے صوبے کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سندھ میں ہونے والے ترقیاتی منصوبے نہیں دیکھ پا رہا تو مسئلہ نظر کا نہیں بلکہ نیت کا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ بانیانِ پاکستان میں سب کے بزرگ شامل تھے اور ہجرت کے بعد سندھ نے لاکھوں لوگوں کو اپنے سینے سے لگایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کی ترقی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اختلافات سے بالاتر ہو کر مل کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ اس سال پہلی مرتبہ گندم کی پیداوار میں خود کفیل ہونے جا رہا ہے، جس کے بعد صوبے کو دیگر علاقوں سے گندم منگوانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ان کے مطابق یہ کامیابی کسانوں کی محنت اور حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
مراد علی شاہ: سندھ کی ترقی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے
