پیرس: یورپ میں کئی روز تک جاری رہنے والی شدید گرمی کے بعد موسم نے اچانک کروٹ لے لی۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں موسلا دھار بارش شروع ہوگئی جس کے باعث حکام نے طوفان کی وارننگ جاری کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق شدید گرمی کے بعد فضا میں اچانک تبدیلی آئی اور بادل برس پڑے، جس سے متعدد علاقوں میں سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا جبکہ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے تیز ہواؤں، گرج چمک اور مزید بارشوں کے امکان کے پیش نظر الرٹ جاری کیا ہے۔
فرانس میں حالیہ ہیٹ ویو نے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر کیے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شدید گرمی کے باعث ایک ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر گرمی سے متعلق بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
دوسری جانب اسپین بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں صرف ایک ہفتے کے دوران 327 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں بزرگ افراد، دائمی بیماریوں میں مبتلا شہریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کی ہوئیں۔
یورپ کے دیگر ممالک بھی غیر معمولی گرمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ آسٹریا، اٹلی، ہنگری اور چیک ریپبلک میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جس کے باعث متعدد شہروں میں ہیلتھ الرٹس جاری کیے گئے ہیں۔ کئی علاقوں میں شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے، زیادہ پانی پینے اور بچوں و بزرگوں کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے بعد آنے والی اچانک بارشیں اور طوفانی نظام موسمی عدم استحکام کی علامت ہیں۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں ایسے انتہائی موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یورپی حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مقامی انتظامیہ اور محکمہ موسمیات کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے محفوظ رہا جا سکے۔
یورپ میں شدید گرمی کے بعد پیرس میں موسلا دھار بارش، طوفان کی وارننگ جاری
