وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد کر دی
وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کے سپریم کورٹ فیصلے پر سوال اٹھا دیئے،جسٹس حسن رضوری نے کہا کہ مونال کی لیز تجوید کا کیس سول کورٹ میں زیرالتواء تھا، کچھ ریسٹورنٹس کی انٹراکورٹ اپیلیں بھی ہائی کورٹ میں زیرالتواء تھیں،وکیل مونال نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلے سے تمام عدالتوں میں زیرالتواء کیسز نمٹانے کا حکم دیدیا،جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ متعلقہ فریقین کو سننے کا نکتہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں اٹھایا؟ سپریم کورٹ میں تمام وکیل کیوں گونگے ہوگئے تھے؟ احسن بھون نے کہا کہ ہم تو یہاں بھی ادب سے کھڑے ہیں جیسے سپریم کورٹ کھڑے تھے، جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ وکیل کا کام قانونی نکات اٹھانا ہے ادب سے درباری کھڑے ہوتے ہیں،سی ڈی اے کی نظرثانی درخواست میں ٹھوس نکات تو اٹھائے ہی نہیں گئے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وائلڈ لائف بورڈ کا نیا قانون 2024 میں آ چکا ہے، احسن بھون نے کہا کہ تمام فریقین متفق ہیں کہ سول کورٹ میں کیس چلنے دیا جائے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام وکلاء کا اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے،
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ وکلاء کے اتفاق سے تو عدالتیں نہیں چلتیں،جس قسم کا سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے وہ اتفاق رائے سے نہیں ختم ہوسکتا، عدالتی حکم واپس لینے کیلئے تفصیلی فیصلہ دینا پڑے گا، سپریم کورٹ کی طرح کسی پر اپنا فیصلہ تھوپنا نہیں چاہتے،آپ چاہتے ہیں ہم بھی سپریم کورٹ کی طرح فریقین کو سنے بغیر فیصلہ کر دیں، عدالت نے کیس کی مزید سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی ،جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی
