ڈاکٹر عمر عادل حالیہ دنوں میں وہ اداکارہ نرگس کے حوالے سے اپنے بیان کی وجہ سے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں،میزبان و اداکارہ فضا علی کے شو میں انہوں نے اپنے بیان کی وضاحت پیش کی۔
میزبان فضا علی نے شو کے دوران ڈاکٹر عمر عادل سے نرگس کے رقص کو روحانیت سے جوڑنے کے حوالے سے سوال کیا اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک پڑھے لکھے شخص کی جانب سے ایسا بیان کیسے دیا جا سکتا ہے اس پر ڈاکٹر عمر عادل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایک مہذب انسان ہیں اور ان کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ تھیٹر میں ہونے والے تمام رقص درست ہیں ان کے مطابق وہ صرف نرگس کے حوالے سے بات کر رہے تھے اور انہوں نے اس کے انداز میں روحانیت محسوس کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہر رنگ اور ہر وجود میں روحانیت دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر کوئی شخص ایسا محسوس نہیں کر سکتا تو یہ اس کی سوچ کا فرق ہے اور آپ نے وہ سنا جو آپ سننا چاہتی ہیں، میں تو اپنی بات پر قائم ہوں کہ میں نے جو پرفارمنس دیکھی وہ عمدہ تھیں اور مجھے خوبصورت چیز دیکھ کر خدا یاد آتا ہے، رقص کرنے والی خواتین کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اصل ذمہ داری ان افراد پر عائد ہوتی ہے جو ایسے پروگرامز میں شرکت کرتے ہیں مجھے اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے اور میں نے صرف اپنی ذاتی رائے پیش کی ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر عمر عادل نے نرگس کی پرفارمنس کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہتے ہیں ڈانس میں فحاشی نہیں ہوتی آپ کی نظر میں فحاشی ہو گی میں بہت گناہ گار انسان ہوں لیکن نرگس کا ڈانس دیکھ کر آنسو آ جاتے تھے وہ پرفارمنس ہی اس قسم کی دیتی تھیں، حسین چیز میں رب دکھنا چاہیے، ان کے گیتوں کے بول جو ہمیں سمجھ آتے ہیں آپ اپنی توجہ درست سمت میں رکھیں، جس پر کئی صارفین نے ڈاکٹر عمر عادل کے بیان پر تنقید کی۔
