او جی ڈی سی ایل اور امریکی انرجی ٹیکنالوجی کمپنی بیکر ہیوز کے درمیان پرانے تیل و گیس کے اثاثوں سے پیداوار بڑھانے کے لیے اہم معاہدہ طے پاگیا۔
ترجمان او جی ڈی سی ایل کے مطابق معاہدے کا مقصد کمپنی کے پرانے اور میچور تیل و گیس کے اثاثوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ معاہدے کے تحت بیکر ہیوز جدید ٹیکنالوجی اور اپنی تکنیکی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے او جی ڈی سی ایل کے میچور اثاثوں کی بحالی اور پیداوار میں بہتری کے لیے معاونت فراہم کرے گا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ او جی ڈی سی ایل کی جامع پروڈکشن آپٹیمائزیشن مہم کا حصہ ہے، جس کے ذریعے کمپنی اپنے موجودہ تیل و گیس کے اثاثوں سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے 18 بڑے میچور اثاثوں میں 12 آئل فیلڈز جبکہ 6 گیس اور کنڈینسیٹ فیلڈز شامل ہیں۔ کمپنی اس وقت روزانہ تقریباً 40 ہزار بیرل خام تیل، 815 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس اور 780 میٹرک ٹن ایل پی جی پیدا کر رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق بیکر ہیوز کے ساتھ تعاون سے پرانے فیلڈز کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے، مقامی تیل و گیس کی پیداوار بڑھانے اور ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
او جی ڈی سی ایل کا کہنا ہے کہ معاہدہ پاکستان کی توانائی سلامتی کو مستحکم کرنے اور مقامی سطح پر تیل و گیس کی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ مقامی پیداوار میں اضافہ ہونے سے درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے او جی ڈی سی ایل اور بیکر ہیوز کے درمیان معاہدے کو پاک امریکا توانائی شراکت داری میں اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں اداروں کے درمیان تعاون پاکستان کے توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور مہارت کے استعمال کے نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔
