سلطنت عمان نے بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو خطے میں تناؤ میں اضافے، جہاز رانی کی آزادی میں رکاوٹ اور علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔
عمانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عمان خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ وزارت کے مطابق سعودی عرب، یمن کے متعلقہ فریقین اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا جا رہا ہے تاکہ سیاسی عمل کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے اور امن روڈ میپ پر پیش رفت ممکن ہو۔
بیان میں کہا گیا کہ عمان کا مقصد یمن بحران کے پرامن حل کو فروغ دینا، خطے میں استحکام بحال کرنا اور بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ عمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
عمانی وزارت خارجہ کے مطابق منیلا میں عمان کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک عمان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، دوطرفہ تعاون بڑھانے اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز، یمن اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال سمیت مختلف علاقائی امور پر بھی گفتگو کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں امن، استحکام اور سفارتی روابط کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
عمان کا بحیرہ احمر کی کشیدہ صورتحال پر اظہار تشویش، امن کوششیں تیز کرنے پر زور
