ایران کے صوبہ خوزستان میں ایران عراق سرحد کے قریب امریکی حملے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ 11 دیگر زخمی ہو گئے۔ ایرانی حکام کے مطابق حملہ گزشتہ شب شلمچہ بارڈر کراسنگ کے قریب واقع مسافر ٹرمینل کے اطراف ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔
صوبہ خوزستان کے نائب گورنر ولی اللہ حیاتی نے بتایا کہ حملے کے نتیجے میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 11 افراد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملہ شلمچہ بارڈر کراسنگ کے قریب کیا گیا، تاہم اس واقعے کے باوجود سرحدی گزرگاہ پر زائرین کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے اور سفری سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔
ایرانی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور حملے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سرحدی علاقے میں سیکیورٹی بھی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور ایران و امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سرحدی علاقوں میں ایسے واقعات خطے کے امن و استحکام کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
تاحال امریکی حکام کی جانب سے اس حملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ایرانی حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد مزید تفصیلات جاری کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایران عراق سرحد پر امریکی حملہ، 2 افراد جاں بحق، 11 زخمی
