بھارتی پولیس نے پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں کبوتر کو گرفتار کر لیا۔
بھارتی پولیس کے مطابق جموں و کشمیر کے اکھنور سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب ایک سرحدی گاؤں میں مشتبہ کبوتر پکڑے جانے کے بعد سیکیورٹی اداروں میں تشویش پائی جاتی ہےیہ کبوتر ایک مقامی بچے نے پکڑا جس کے بعد اسے تحویل میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہےکبوتر پر الزام ہے کہ یہ پاکستان کے لیے جاسوسی کرتا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آریان نامی بچے نے صبح کے وقت اس کبوتر کو پکڑا جس کے دونوں پروں پر سیاہ رنگ کی پٹیاں موجود تھیں جبکہ اس کے پاؤں میں سرخ اور زرد رنگ کی دو انگوٹھیاں پہنائی گئی تھیں ان انگوٹھیوں پر “رحمت سرکار رضوان 2025” کے الفاظ اور کچھ عددی کوڈ درج ہیں جن کی بنیاد پر کبوتر کو مشتبہ قرار دیا گیا ہے۔
چین، پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہو گئے !!!
سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کبوتر کو مقامی پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا یہ کبوتر سرحد پار سے آیا ہے اور اس کا کسی مبینہ جاسوسی سرگرمی سے تعلق ہے یا نہیں،پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کبوتر کے بارے میں حتمی موقف اختیار کیا جائے گا۔
بھارت اور بنگلا دیش کے تعلقات میں کشیدگی، نیویارک ٹائمز نے بھارتی مداخلت بے نقاب کردی
واضح رہے کہ ماضی میں بھی بھارتی سیکیورٹی ادارے سرحدی علاقوں سے اس نوعیت کے کبوتروں کو تحویل میں لے چکے ہیں جن پر مبینہ طور پر جاسوسی کے الزامات عائد کیے گئے تھے تاہم ایسے واقعات پر سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر اکثر تنقید بھی سامنے آتی رہی ہے۔
