نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک اہم سفارتی تقریب کے دوران گر کر زخمی ہو گئے تاہم انہوں نے دن بھر اپنی سرکاری ذمہ داریاں جاری رکھیں جس پر حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ذمہ داری کی اعلیٰ مثال ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر پاکستانی میڈیا کے کردار کو بھی سراہا جا رہا ہے کہ اس نے ریٹنگ کے لیے واقعے کو بار بار نشر کرنے سے گریز کیا اور خبروں کا مرکز مذاکرات اور سفارتی اجلاس کو رکھا صارفین نے کہا کہ یہ عمل قابل تعریف ہے اور میڈیا کے اس ذمہ دار رویے کی تعریف کی جانی چاہیے کیونکہ یہ دن پاکستان کے لیے اہم تھا اور عالمی نظریں ملک پر مرکوز تھیں۔
ایکصارف کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانی میڈیا پر بہت تنقید کرتے ہیں مگر یہی میڈیا اس حوالے سے قابل تعریف ہے کہ کل جب اسحاق ڈار کے گرنے کا واقعہ ہوا تو میڈیا نے اسے ریٹنگ کے لیے بار بار نہیں چلایا، یہ عمل قابل تعریف ہے ایک صارف نے کہا کہ کل کے واقعے میں میڈیا نے ریٹنگ کے بجائے ذمہ داری کو ترجیح دی، اسحاق ڈار کے گرنے کو بار بار نشر نہ کرنا واقعی سراہنے کے قابل ہے۔
علاوہ ازیں سینئیر صحافیوں نے بھی میڈیا کے اس عمل کی تعریف کی سینیئر صحافیوں کا کہنا تھا کہ یہ عمل قابلِ تعریف ہے اور میڈیا کے اس ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کی جانی چاہیے کیونکہ یہ دن پاکستان کے لیے اہم تھا اور عالمی نظریں ملک پر مرکوز تھیں۔
سابق چیئرمین پیمرا و سینیئر صحافی ابصار عالم نے کہا کہ میڈیا نے اس معاملے میں غیر ضروری سنسنی اور تضحیک سے گریز کرتے ہوئے ایک حد تک پیشہ ورانہ بلوغت کا مظاہرہ کیا، ماضی میں اکثر ایسے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا رہا، تاہم اس بار میڈیا نے نسبتاً ذمہ داری دکھائی کیونکہ اب میڈیا پر پیچھے سے ہدایات دینے والے عناصر کی گرفت پہلے کی نسبت کم دکھائی دیتی ہے جب میڈیا پر دباؤ کم ہوتا ہے تو ادارے خود اپنے ادارتی فیصلے کرنے کے قابل ہوتے ہیں، جس سے پیشہ ورانہ معیار بہتر ہوتا ہے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میڈیا کی ساکھ، جو ماضی میں مختلف اثر و رسوخ کے باعث متاثر ہوئی، اس کی مکمل بحالی میں وقت درکار ہوگا اور مزید میچورٹی کی ضرورت ہے۔
