ووٹ عوام کا، اختیار چند خاندانوں کا: پاکستانی جمہوریت کا المیہ
جمہوریت کے نعرے، اقتدار کی سیاست: جمہور آخر کہاں کھڑا ہے؟
تجزیہ: شہزادقریشی
پاکستان میں جب بھی جمہوریت کا ذکر ہوتا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کس جمہوریت کی بات کی جا رہی ہے؟ کیا اس جمہوریت کی، جس میں ہر چند سال بعد عوام سے ووٹ لے لیا جاتا ہے اور پھر پانچ سال تک عوام کو صرف وعدوں، بیانات اور سیاسی تماشوں پر گزارا کرنا پڑتا ہے؟ یا اس جمہوریت کی، جس میں سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوریت موجود ہو، کارکن کو عزت ملے، میرٹ کو اہمیت دی جائے اور فیصلے چند خاندانوں کے ڈرائنگ رومز کے بجائے پارٹی فورمز میں ہوں؟
پاکستان کی سیاست پر نظر ڈالیں تو صورتحال بڑی تلخ نظر آتی ہے۔ سندھ میں دہائیوں سے ایک ہی سیاسی طرز حکمرانی قائم ہے۔ پنجاب میں اقتدار چند بڑے سیاسی خاندانوں کے گرد گھومتا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی جماعتی فیصلے چند شخصیات کے ہاتھوں میں مرتکز دکھائی دیتے ہیں، جبکہ بلوچستان میں عوامی مینڈیٹ سے زیادہ سیاسی جوڑ توڑ اور اقتدار کی بندربانٹ کی داستانیں سنائی دیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابات محض رسمی کارروائی ہوں، اگر قیادت نسل در نسل منتقل ہوتی رہے، اگر کارکن صرف جلسے بھرنے اور نعرے لگانے تک محدود ہو، تو پھر جمہوریت کہاں ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے نام پر سب سے زیادہ نقصان خود جمہوریت کو پہنچایا گیا ہے۔ یہاں جمہوریت اکثر عوامی خدمت کے بجائے اقتدار کے حصول اور تحفظ کا ذریعہ بن گئی ہے۔ اپوزیشن میں رہنے والی جماعتیں آئین، قانون اور آزادی اظہار کی علمبردار بن جاتی ہیں، لیکن اقتدار میں آتے ہی وہی اصول پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ جو کل احتساب کا مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں، آج احتساب سے گریز کرتے نظر آتے ہیں، اور جو کل اختیارات کی مرکزیت کے خلاف تھے، وہ آج انہی اختیارات کو اپنے گرد جمع کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کا عام شہری آج بھی بنیادی سہولتوں، روزگار، تعلیم، صحت اور انصاف کے لیے دربدر ہے، جبکہ سیاسی اشرافیہ جمہوریت کے نام پر اقتدار کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔ اسمبلیوں میں عوامی مسائل سے زیادہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں نظر آتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جمہوریت کا اصل مقصد عوام کی خدمت نہیں بلکہ اقتدار کا حصول اور اس کا تحفظ رہ گیا ہے۔
اگر پاکستان میں واقعی جمہوریت قائم کرنی ہے تو سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت لانا ہوگی۔ موروثی سیاست، شخصیت پرستی اور سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ کارکن کو فیصلہ سازی میں شریک کرنا ہوگا، بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانا ہوگا اور عوام کو صرف ووٹر نہیں بلکہ ریاست کا اصل مالک تسلیم کرنا ہوگا۔
ورنہ تاریخ یہی سوال دہراتی رہے گی کہ پاکستان میں جمہوریت کے نام پر آخر جمہور کو کیا ملا؟ اقتدار کے ایوان بدلتے رہے، چہرے بدلتے رہے، نعرے بدلتے رہے، مگر عام آدمی کی قسمت کیوں نہ بدل سکی؟ اگر جمہوریت کا ثمر جمہور تک نہیں پہنچتا تو پھر یہ سوال پوچھنا حق بجانب ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ہے بھی یا صرف جمہوریت کا نام باقی رہ گیا ہے؟
