کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی (CBSA) کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران 3,323 بھارتیوں کو ملک بدر کیا گیا ہے جوکسی بھی ملک کی سب سے بڑی تعداد ہے ۔
خبررساں ادارے کے مطابق سی بی ایس اے کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جنوری اور جون 2026ء کے درمیان نکالے گئے افراد میں سب سے زیادہ تعداد بھارتی شہریوں کی ہے ، اس کے بعد میکسیکو کے شہری ہیں جن کی تعداد 1,573 ہے۔ مجموعی طور پر کینیڈا نے رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران 10,607 افراد کو ملک بدر کیا جبکہ 2025ء میں یہ تعداد 23,160 تھی۔یہ اِضافہ کینیڈا کے امیگریشن سسٹم کی سخت جانچ پڑتال اور عارضی رہائشیوں میں تیزی سے اضافے کے بعد امیگریشن کنٹرول کو سخت کرنے کے لیے حکومت پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کے درمیان سامنے آیا ہے۔ تاہم سی بی ایس اے ڈیٹا اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا ہے کہ کینیڈا سے نکالے گئے تمام بھارتی شہریوں کو جرائم کے باعث ملک بدر کیا گیا ہے۔ کینیڈا کے امیگریشن قانون کے مطابق امیگریشن کے تقاضوں کو پورانہ کرنے سمیت کئی بنیادوں پرلوگوں کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔2026ء کی پہلی ششماہی کے دوران ریکارڈ کیے گئے 10,607 افراد میں سے 8,551 افراد کو امیگریشن کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے پر جبکہ 1,303 کو دیگر عوامل کی بنیاد پر ملک بدر کیا گیا۔حالیہ برسوں میں بھارت اور کینیڈا کے کشیدہ تعلقات کے باعث بھارتی شہریوں کی ملک بدری میں اضافہ ہوا ہے ، حالانکہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کی بہتری کے لئے اقدمات کئے ہیں۔توقع ہے کہ تازہ ترین اعدادوشمار نئی دہلی کی توجہ حاصل کریں گے کیونکہ 2025ء میں کینیڈا سے ملک بدر کئے گئے بھارتی شہری دوسرا سب سے بڑا گروپ تھا جو 2026ء کی پہلی ششماہی میں سب سے بڑا گروپ بن گیا ہ
