Baaghi TV

رواں سال بھارت میں مسلم مخالف نفرت انگیز جرائم میں44 مسلمان شہید

ساؤتھ ایشیاء جسٹس کمپین نے اپنی ایک رپورٹ میں کہاہے کہ 2026ء کے پہلے سات ماہ کے دوران بھارت میں کم از کم 44 مسلمانوں کو قتل کیا گیا جن میں سے 19 افراد ریاستی عناصر اور 25 افراد ہندو انتہاپسندوں کے حملوں میں مارے گئے۔

خبررساں ادارے کے مطابق جب سے انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر نے 2022ء میں اس طرح کی ہلاکتوں کو دستاویزی شکل دینا کرنا شروع کیا ہے ، 2026ء کو مسلم مخالف تشدد کے حوالے سے مہلک ترین سالوں میں سے ایک قرار دیا گیاہے ۔ انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر نے مسلسل تشدد ، من مانی گرفتاریوں ، پولیس کے جارحانہ رویے اور مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو مسمار کرنے کے متعدد واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے۔ جنوری سے اپریل 2026ء کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کے زیراقتدار ریاستوں خاص طور پر اترپردیش ، آسام اور مقبوضہ جموں کشمیر میں ریاستی عناصر سنگین زیادتیوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔ جنوری سے جولائی تک ہونے والی 44 ہلاکتوں میں سے 19 اموات ریاستی کارروائیوں جیسے جعلی پولیس مقابلوں یا دورانِ حراست ہوئیں اور 25 اموات غیر ریاستی عناصر یعنی مسلم مخالف نفرت انگیز جرائم سے ہوئیں۔ صرف مئی اور جولائی 2026ء کے درمیان 25 مسلمان مارے گئے جن میں ایک 11 سالہ لڑکی اور ایک 16 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق ان میں سے 15 افراد ریاستی عناصر اور 10 افراد ہندو انتہاپسندوں خاص طور پر بی جے پی ، آر ایس ایس ، بجرنگ دل ، وی ایچ پی اور دیگر ہم خیال گروپوں کے ہاتھوں مارے گئے۔سب سے زیادہ اموات اترپردیش سمیت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیراقتدار ریاستوں میں پولیس کارروائیوں اور دورانِ

More posts