وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے یومِ آزادی کی 79ویں سالگرہ اور بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کی 150ویں یومِ پیدائش کی مناسبت سے قومی نغمے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان ایک نئی صبح کی دہلیز پر کھڑا ہے، ایسی صبح جو امید، عزم، قومی یکجہتی اور ترقی کے روشن امکانات کی نوید لے کر طلوع ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب محض ایک قومی نغمے کی رونمائی نہیں بلکہ ایک ایسی قومی تحریک کا آغاز ہے جس کا مقصد قوم کی اجتماعی روح، فکری سمت اور ترقی کے عزم کو ازسرِ نو بیدار کرنا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی فکری بنیادیں شاعرِ مشرق، حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ اور بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے افکار سے استوار ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے قوم کو خودی، خوداعتمادی، علم، کردار اور عمل کا درس دیا، جبکہ قائدِ اعظمؒ نے اسی فکر کو عملی تعبیر دے کر ایک آزاد، خودمختار، جدید اور ترقی پسند ریاست کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2026 قائدِ اعظمؒ کی ڈیڑھ سوویں سالگرہ کا سال ہے، جو ہمیں اپنے بانیانِ وطن کے خوابوں کی تکمیل کے عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے باوجود یہ تاثر درست نہیں کہ قومی نظام ناکام یا منہدم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام کے انہدام کا نہیں بلکہ قومی اصلاحات کا دور ہے۔ دنیا جس تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، پاکستان بھی اسی رفتار سے اپنے اداروں، نظامِ حکمرانی اور قومی ترجیحات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچیس کروڑ عوام کے مسائل صرف منتخب نمائندے اکیلے حل نہیں کر سکتے بلکہ قومی ترقی کے لیے نوجوانوں، ماہرین، نجی شعبے اور تمام ریاستی اداروں کی مشترکہ کاوش ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصلاحات کے عمل میں تسلسل، قومی اتفاقِ رائے اور اجتماعی ذمہ داری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے میزد کہا کہ ہماری نوجوان نسل روشن امید کا چراغ ہیں ، ہمارے نوجوان کاکروچ نہیں بلکہ اقبال کے شاہن ہیں
وفاقی وزیر نے کہا کہ بعض حلقوں نے 2022 میں پاکستان کے معاشی دیوالیہ ہونے اور نظام کے بیٹھ جانے کی پیش گوئیاں کی تھیں، مگر قوم کے اجتماعی عزم، حکومتی اقدامات اور عوامی تعاون سے پاکستان نے نہ صرف ان مشکلات پر قابو پایا بلکہ دوبارہ ترقی کی راہ اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ آج بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی وطن کی معاشی بحالی اور مثبت پیش رفت کا اعتراف کر رہے ہیں، جو پوری قوم کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان قومی معاشی تبدیلی کا ایسا جامع فریم ورک ہے جس کا مقصد پاکستان کو اکیسویں صدی کی معیشت سے ہم آہنگ کرنا، ایک ٹریلین ڈالر معیشت کی بنیاد رکھنا، برآمدات میں نمایاں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ، توانائی کے شعبے میں خودانحصاری، ڈیجیٹل معیشت کی تشکیل، انسانی وسائل کی مہارتوں میں اضافہ، معیاری تعلیم و صحت، آبادی کے مؤثر انتظام اور پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کرنے کے لیے مختلف پروگراموں اور تربیتی منصوبوں پر بھرپور سرمایہ کاری کر رہی ہے، کیونکہ نوجوان صرف پاکستان کا مستقبل ہی نہیں بلکہ اس کا حال بھی ہیں۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ یہ قومی نغمہ محض ایک تخلیق یا تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ولولہ، ایک تحریک اور ایک بیدار قوم کی دھڑکن ہے۔ یہ علامہ اقبالؒ کے پیغامِ خودی، جرأت، خوداعتمادی اور قومی تعمیر کو آج کے نوجوانوں کے جذبے اور توانائی سے جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، جبکہ قائدِ اعظمؒ کے مضبوط، خودانحصار اور ترقی یافتہ پاکستان کے وژن کو نئی نسل تک مؤثر انداز میں پہنچانے کا ذریعہ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ نے ہمیں صرف خواب دیکھنے کا درس نہیں دیا بلکہ یہ بھی سکھایا کہ خوابوں کو علم، کردار، محنت اور مسلسل جدوجہد سے حقیقت میں کیسے بدلا جاتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں، محدود سوچ سے بلند ہوں، اپنی خودی کو مضبوط بنائیں اور قومی ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کی ماضی کی مشکلات میں نہیں بلکہ اس کے نوجوانوں کے عزم، صلاحیت، علم اور بلند حوصلے میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی، خوشحالی اور قومی سلامتی کا سفر اسی وقت ممکن ہے جب پوری قوم اجتماعی شعور، قومی یکجہتی اور اصلاحات کے ایجنڈے کو اپنا مشترکہ مشن بنائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اڑان پاکستان کا قومی سفر کسی ایک جماعت یا حکومت کا نہیں بلکہ پوری قوم کی اجتماعی کوشش ہے، جو پاکستان کو ایک مضبوط، خودانحصار، خوشحال اور باوقار ریاست بنانے کی جانب لے جائے گا
