ہجرت کرنے والے پرندے ایک ہی راستے سے، ایک ہی سمت میں، برسوں سفر کرتے ہیں۔ جس راہ سے وہ پہلی بار گزرتے ہیں، وہاں اکثر نہ کوئی بلند و بالا عمارت ہوتی ہے، نہ کوئی انسانی بستی۔ بس کھلا آسمان، اور آسمان جتنا ہی وسیع راستہ۔ مگر وقت گزرتا ہے، اور جب یہی پرندے دوبارہ اُسی راہ سے گزرتے ہیں، تو وہاں اکثر کوئی نئی عمارت کھڑی ہو چکی ہوتی ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ اگر وہ عمارت اینٹ، پتھر، یا کنکریٹ کی ہو، تو پرندے اسے فوراً بھانپ لیتے ہیں۔ اُن کی فطرت انہیں خبردار کر دیتی ہے کہ یہاں اب راستہ بدل چکا ہے، یہاں اب کوئی رکاوٹ آ کھڑی ہوئی ہے۔ وہ اپنا رخ موڑ لیتے ہیں، اوپر اٹھ جاتے ہیں، یا کنارہ کر جاتے ہیں۔ مگر شیشے کی عمارت کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔
شیشہ پرندوں کو دھوکا دے جاتا ہے۔ وہ اُس میں آسمان کا عکس دیکھتے ہیں، بادلوں کا عکس، درختوں کا عکس گویا شیشہ کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ راستے کا ہی تسلسل ہو۔ وہ پوری رفتار سے اُڑتے ہوئے اُس میں جا ٹکراتے ہیں، اور اکثر اُسی ٹکراؤ میں دم توڑ دیتے ہیں۔ یہی شیشے کا المیہ ہے وہ نظر آتا تو کچھ نہیں، مگر روکتا سب کچھ ہے۔
سوچتی ہوں تو لگتا ہے، انسان بھی اکثر اپنی زندگی میں اِنہی شیشوں سے ٹکراتا رہتا ہے۔ پتھر کی رکاوٹیں تو نظر آ جاتی ہیں، اُن سے بچا جا سکتا ہے۔ مگر وہ رشتے، وہ وعدے، وہ چہرے جو شفاف نظر آتے ہیں، جن میں ہمیں اپنا ہی عکس دکھائی دیتا ہے، جن کے پار ہمیں کھلا آسمان محسوس ہوتا ہے وہی سب سے زیادہ زخم دیتے ہیں۔ ہم پوری رفتار سے، پورے اعتماد سے، اُن میں جا ٹکراتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ شفافیت بھی ایک دیوار ہو سکتی ہے۔
ہر وہ چیز جو آرپار دکھائی دے، ضروری نہیں کہ راستہ ہی ہو۔ کبھی کبھی سب سے شفاف نظر آنے والی شے ہی سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے، اور اُس کا ٹکراؤ، پتھر کے ٹکراؤ سے کہیں زیادہ گہرا زخم چھوڑ جاتا ہے۔
