وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرول کی قیمت اب بھی زیادہ ہے، تاہم حکومت نے ملک میں پیٹرول کی قلت پیدا نہیں ہونے دی۔
ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت کو پیٹرول کی فراہمی اور دستیابی کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف چیلنجز کا سامنا رہا، لیکن عوام کو ایندھن کی قلت کا سامنا نہیں کرنے دیا گیا۔
علی پرویز ملک نے خطے کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ملک میں شناختی کارڈ دکھانے پر صرف دو لیٹر پیٹرول فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خطے میں ایندھن کی فراہمی کو کس قدر مشکلات کا سامنا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے دوران پاکستان کو معاشی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق حکومت نے ان مشکل حالات میں ملکی ضروریات کو پورا کرنے اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے مشکل فیصلے کیے اور ان فیصلوں کے نتیجے میں ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش کی گئی۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت کو ملکی معیشت اور عوامی ضروریات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن عملی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات پر توجہ دے رہی ہے۔
پیٹرول مہنگا ہے لیکن قلت نہیں ہونے دی، علی پرویز ملک
