پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو صرف گاڑی کا پہیہ مہنگا نہیں ہوتا، زندگی کا ہر پہیہ اور بھاری ہو جاتا ہے۔ ایک عام آدمی شاید پٹرول خریدتے وقت صرف چند اضافی روپے ادا کرتا ہے، مگر وہی چند روپے راستے بدلتے ہوئے اس کی روزمرہ زندگی کے نہ جانے کتنے حصوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ سبزی مہنگی، دودھ مہنگا، سفر مہنگا، سامان مہنگا، کرایہ مہنگا۔۔۔ اور پھر ایک دن انسان حیران ہو کر اپنے ہی بجٹ کو دیکھتا ہے کہ آخر وہ چیزیں کہاں گئیں جو کل تک اسی آمدن میں پوری ہو جاتی تھیں؟
ہم پٹرول کی قیمت کو اکثر صرف پٹرول کی قیمت سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ دراصل پوری معیشت کی حرکت سے جڑی ہوئی ہے۔ جس ٹرک پر سبزی شہر تک آتی ہے، جس گاڑی میں دودھ پہنچتا ہے، جس بس میں مزدور کام پر جاتا ہے، جس رکشے سے طالب علم کالج پہنچتا ہے، جس گاڑی سے خام مال فیکٹری تک جاتا ہے۔۔۔ ان سب کے پہیے ایندھن سے چلتے ہیں۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کا بوجھ کسی نہ کسی شکل میں آخرکار عوام کی جیب تک پہنچتا ہے۔
اور عوام کی جیب۔۔۔ آخر کتنی بڑی ہے؟ یہ سوال شاید ہمارے پالیسی سازوں کو سب سے زیادہ سوچنے کی ضرورت ہے۔
حکومتیں بجٹ بناتی ہیں، اعداد و شمار پیش کرتی ہیں، محصولات بڑھانے کی بات کرتی ہیں، ٹیکسوں کے ذریعے آمدن میں اضافے کے منصوبے بناتی ہیں اور پھر ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب ملکی معیشت، بجٹ کے خسارے اور مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ یقیناً ریاست کو چلانے کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں، ٹیکس کسی بھی ریاستی نظام کا بنیادی حصہ ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ریاست اپنی مالی ضرورت پوری کرتے ہوئے عام شہری کی مالی استطاعت کا بھی حساب رکھ رہی ہے یا نہیں؟
کیونکہ ٹیکس صرف کاغذ پر ایک عدد نہیں ہوتا۔ اس کا تعلق اس مزدور سے بھی ہوتا ہے جو روزانہ اپنی اجرت میں سے سفر کا کرایہ نکالتا ہے، اس دکاندار سے بھی ہوتا ہے جس کی اشیائے ضروریہ پہلے ہی مہنگی ہو چکی ہیں، اس ملازم سے بھی ہوتا ہے جس کی تنخواہ بڑھنے سے پہلے اس کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، اور اس ماں سے بھی ہوتا ہے جو مہینے کے آخر میں اپنے گھر کے راشن کا حساب بیٹھ کر دوبارہ بناتی ہے۔
ایک طرف پٹرول کی قیمت میں اضافہ، دوسری طرف بجلی کے بل، تیسری طرف اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور اس کے ساتھ مختلف ٹیکس۔۔۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عام آدمی اپنی آمدن میں سے آخر کیا بچائے؟
کیا ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت کی ہے کہ جس شخص کی آمدن محدود ہے، اس پر ہر نئی قیمت کا اثر نسبتاً زیادہ کیوں پڑتا ہے؟ ایک صاحبِ حیثیت شخص پٹرول مہنگا ہونے پر اپنی گاڑی کم چلا سکتا ہے، مگر ایک مزدور جس کا روزگار ہی سفر سے وابستہ ہے، وہ کیا کرے؟ ایک کاروباری شخص اضافی لاگت کسی حد تک اپنی قیمت میں شامل کر سکتا ہے، مگر ایک تنخواہ دار شخص اپنی آمدن میں اضافے کا فیصلہ خود تو نہیں کر سکتا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت کو صرف آمدن بڑھانے کے بجائے عوام کی برداشت کی حد پر بھی غور کرنا چاہیے۔ بجٹ کا مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ریاست کے خزانے میں کتنا پیسہ آیا؛ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس پیسے کے حصول میں عوام کی زندگی کتنی مشکل ہوئی۔ اگر ہر سال بجٹ کے نام پر نئے بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈالے جائیں اور ان کی بنیادی ضروریات اسی رفتار سے مہنگی ہوتی جائیں تو ہمیں یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ آخر معاشی منصوبہ بندی کا مرکز کون ہے؟ صرف اعداد و شمار یا وہ انسان جس کے لیے یہ پوری معیشت بنائی جاتی ہے؟
حکومت سے سوال کرنا مخالفت نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی سوال کرنا دراصل ریاست کو اس کی اصل ذمہ داری یاد دلانا ہوتا ہے۔ عوام ٹیکس دینے سے بھاگنا نہیں چاہتے؛ عوام یہ چاہتے ہیں کہ ان کے دیے ہوئے ٹیکس کا بوجھ ان کی زندگی کو ناقابلِ برداشت نہ بنا دے۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کی قربانی کے بدلے انہیں بہتر سہولیات، بہتر نظام، بہتر ٹرانسپورٹ، بہتر صحت، بہتر تعلیم اور ایک نسبتاً محفوظ مستقبل بھی مل رہا ہے۔ اگر عوام سے ہر طرف سے وصولی بڑھتی جائے، مگر بنیادی سہولیات ان کی پہنچ سے دور ہوتی جائیں تو پھر اعتماد کا بحران پیدا ہونا فطری ہے۔
ایک حکومت کے لیے شاید پٹرول کی قیمت میں چند روپے کا اضافہ ایک معاشی فیصلہ ہو، مگر ایک عام گھر کے لیے یہی اضافہ پورے مہینے کے حساب کو بگاڑ سکتا ہے۔ اور جب ایسے فیصلے بار بار ہوں تو مسئلہ ایک اضافے کا نہیں رہتا، مسئلہ مسلسل بڑھتے ہوئے بوجھ کا بن جاتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مہنگائی صرف بازار میں نہیں بڑھتی، اس کے اثرات انسان کے رویوں میں بھی اترتے ہیں۔ جب ایک باپ اپنے بچے کی خواہش پوری نہ کر سکے، جب ایک طالب علم سفر کے اخراجات کی وجہ سے تعلیم کے مواقع محدود کرے، جب ایک مریض دوا خریدنے سے پہلے قیمت پوچھ کر خاموش ہو جائے، جب ایک خاندان ہر مہینے اپنی ضروریات میں سے کچھ نہ کچھ کم کرنے پر مجبور ہو۔۔۔ تو یہ صرف معاشی اعداد نہیں رہتے، یہ انسانی زندگی کے کم ہوتے ہوئے امکانات ہوتے ہیں۔
اور شاید حکومت کو اسی مقام پر کچھ دیر ٹھہر کر غور کرنا چاہیے۔ آخر بجٹ کس کے لیے ہے؟ ریاست کی مالی ضروریات اپنی جگہ اہم ہیں، ملکی معیشت کے مسائل اپنی جگہ حقیقت ہیں، لیکن اس سب کے درمیان ایک عام شہری بھی تو ہے جس سے ہر طرف سے کہا جاتا ہے کہ ملک کے لیے قربانی دیں۔ سوال یہ ہے کہ قربانی ہمیشہ اسی سے کیوں مانگی جائے جس کے پاس پہلے ہی دینے کو بہت کم ہے؟
اگر ٹیکس بڑھانا ضروری ہے تو اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ٹیکس کا نظام منصفانہ ہو۔ اگر پٹرول مہنگا کرنا ناگزیر ہے تو اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے کہ اس کا بوجھ کم آمدن والے طبقے تک کس حد تک پہنچ رہا ہے۔ اگر بجٹ میں خسارہ ہے تو صرف عوام سے مزید وصولی کا راستہ تلاش کرنے کے بجائے اخراجات، حکومتی کارکردگی، غیر ضروری مراعات اور وسائل کے استعمال پر بھی اتنی ہی سنجیدگی سے نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
کیونکہ ایک ریاست کی طاقت صرف اس بات میں نہیں کہ وہ اپنے شہریوں سے کتنا وصول کر سکتی ہے۔۔۔ اصل طاقت اس میں ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو کتنا سنبھال سکتی ہے۔
عوام ہر بار خاموش رہ کر قیمت ادا کر دیتے ہیں۔ کبھی پٹرول کی، کبھی بجلی کی، کبھی راشن کی، کبھی ٹیکس کی، کبھی کرائے کی۔ مگر خاموشی کو ہمیشہ رضامندی سمجھ لینا شاید درست نہیں۔ کچھ خاموشیاں صرف اس لیے ہوتی ہیں کہ انسان کے پاس احتجاج سے پہلے اپنے بچوں کی فیس ادا کرنے کی فکر ہوتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمت کو صرف ایک معاشی خبر سمجھ کر آگے نہ بڑھا دیا جائے۔ حکومت کو اس کے براہِ راست اور بالواسطہ اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ بجٹ بناتے وقت یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ ریاست اپنے اخراجات پورے کرتے ہوئے عوام کی کمر پر کتنا بوجھ ڈال رہی ہے اور وہ بوجھ آخر کہاں جا کر ٹوٹتا ہے۔
کیونکہ معیشت کا سب سے اہم عدد شاید وہ نہیں جو بجٹ کی کتاب میں لکھا ہوتا ہے۔ وہ عدد تو شاید یہ ہے کہ مہینے کے آخر میں ایک عام گھر کے پاس کتنی امید باقی رہ گئی ہے۔
اور اگر اس امید کی قیمت بھی ہر روز بڑھ رہی ہے، تو پھر ہمیں صرف مہنگائی کے اعداد نہیں گننے چاہئیں۔۔۔ ہمیں اس انسان کو بھی دیکھنا چاہیے جو ان اعداد کے نیچے دب رہا ہے۔
