Baaghi TV

سیلاب میں بہتے خواب ،تحریر: شمسہ رانی

کل سوشل میڈیا پر ایک مختصر سی ویڈیو دیکھی مگر اس کے چند لمحے دل میں ایک طویل سوال چھوڑ گئے ۔ایک شخص سیلابی ریلے میں اپنی گاڑی کو دونوں ہاتھوں سے تھامے کھڑا تھا۔ ارد گرد کھڑے لوگ چیخ رہے تھے بھائی خدا کے لیے اپنی جان بچاو۔گاڑی پھر آ جائے گی ۔مگر اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا یہ گاڑی میری برسوں کی محنت اور خون پسینے کی کمائی ہے ۔اور میں اسے اپنے ہاتھوں سے بہتا نہیں دیکھ سکتا ۔

یہ الفاظ صرف ایک شخص کی فریاد نہیں تھے ۔بلکہ ان لاکھوں پاکستانیوں کی خاموش چیخ تھے جن کی زندگی بھر کی جمع پونجی ہر سال بارشوں اور سیلاب کی بے رحم موجوں میں بہہ جاتی ہے ۔جس نے اپنے خواب اینٹ اینٹ جوڑ کر گھر بنایا ہو ۔جس نے قرض اور محنت سے ایک گاڑی یا چند مو یشی خریدے ہوں اس کے لیے یہ صرف سامان نہیں ہوتے یہ اس کی زندگی کی پوری کہانی ہوتی ہیں۔

قدرتی آفات آزمائش ضرور ہوتی ہیں مگر ہر نقصان صرف قدرت کے کھاتے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ ہماری ناقص منصوبہ بندی، تجاوزات، بند نالے ،جنگلات کی بے دریغ کٹائی، دریاؤں کے کناروں پر غیر قانونی ابادیاں اور نکاسی اب کے کمزور نظام بھی اس تباہی کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں ۔اگر بروقت منصوبہ بندی کی جائے تو بے شمار قیمتی جانیں اور عربوں روپے کا نقصان بچایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مصیبت کے انہی لمحوں میں پاکستانی قوم کا خوبصورت چہرہ سامنے اتا ہے۔ اجنبی لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔ نوجوان اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر دوسروں کو بچاتے ہیں اور انسانیت ہر تعلق سے بڑھ کر دکھائی دیتی ہے۔ یہی جذبہ ہماری اصل طاقت ہے۔ مگر قوموں کی ترقی صرف جذبوں سے نہیں بلکہ دور اندیش منصوبہ بندی سے بھی ہوتی ہے۔

پاکستان میں سیلاب کے نقصانات کم کرنے کے لیے مضبوط واضح بند تعمیر کرنا ،برساتی پانی کی نکاسی کے ید ید نظام کو فعال بنانا، نئے ابی ذخائر تعمیر کرنا، دریاوں اور نالوں پر ہونے والی تجاوزات کا خاتمہ، وسیع پیمانے پر شجرکاری اور جدید موسمی پیشگوئی کے نظام کو ہر شہری تک بروقت پہنچانا ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعمیرات کے قوانین پر سختی سے عمل درامد بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاکہ خطرناک علاقوں میں غیر منصوبہ بند ابادیاں قائم نہ ہو سکیں ۔ سیلاب صرف پانی کا ریلا نہیں لاتا یہ برسوں کی محنت، بچوں کے مستقبل، بزرگوں کے امیدوں اور غریب ادمی کی عزت نفس کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ اگر ہم نے آج بھی سبق نہ سیکھا تو ہر برسات کے ساتھ صرف دریا ہی نہیں ہماری غفلت بھی کنارے توڑتی رہے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم حادثوں پر افسوس کرنے کے بجائے ایسے فیصلے کریں۔جو آنے والی نسلوں کو محفوظ، پر امن اور باوقار زندگی دے سکے۔

More posts