قصور
پیٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل، مہنگائی کا طوفان برقرار ، شہریوں کے سوالات بڑھ گئے
تفصیلات کے مطابق حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمت 321 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 458 روپے تک پہنچائے جانے کے بعد حکومت کی جانب سے بظاہر ریلیف دیتے ہوئے 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا گیا تاہم اس عارضی کمی کے باوجود مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا
قصور میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے فوری بعد ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جبکہ نان، روٹی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بے تحاشا بڑھ گئیں ہیں
شہریوں کا کہنا ہے کہ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ہر چیز مہنگی کر دی جاتی ہے لیکن جب قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اشیاء کی قیمتیں اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں
شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا حکومت صرف پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور کمی تک ہی محدود ہے یا پھر وہ مارکیٹ میں دیگر اشیاء کی قیمتوں کو بھی کنٹرول کر سکتی ہے؟
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کے حوالے سے کوئی عملی اقدام نظر نہیں آ رہا جس کے باعث عام آدمی کو ریلیف نہیں مل پا رہا
ماہرین کے مطابق قیمتوں میں استحکام کے لیے موثر مانیٹرنگ سسٹم اور سخت حکومتی عملدرآمد ناگزیر ہے بصورت دیگر وقتی ریلیف کا فائدہ عوام تک منتقل نہیں ہو پاتا
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت نہ صرف پیٹرول کی قیمتوں کو متوازن رکھے بلکہ ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی سختی سے عملدرآمد کروائے تاکہ حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف مل سکے
پیٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل مگر مہنگائی کا طوفان مذید بڑھ گیا
