یہ قدرتی معمٙہ ہے کہ انسان جس بھی مٹی میں اتارا جاتا ہے، اس کے اثرات و کرشمات اُس کے جسم و روح میں رچ بس جاتے ہیں۔اس مٹی کے اجزائے ترکیبی ایک تسلسل کے ساتھ بافتوں میں نمکیات کا اثر بھر دیتے ہیں، تاکہ ارادوں اور جذبوں کی توانائی کبھی کم نہ ہو۔انسان عموماً اس وقت ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے جب اُس کی زندگی میں اُس مُلک کی تہذیب و تمدن ، ادب و آداب ، اقدار و روایات اور ثقافتی اقدار کے رنگ فطرت کے ساتھ نتھی ہوتے ہیں۔پھر وقت کے ساتھ ساتھ یادوں کا بُخور تسلسل کے ساتھ اٹھتا رہتا ہے۔ماضی کے قصٙے دن کے اُجالوں اور رات کے پہروں میں مسلسل دستک دیتے ہیں۔
انسان بھی ایک گوندھی ہوئی مِٹی کی مانند ہے جس کے جسم پر نقش و نگار کندہ کیے گئے ہیں۔مُردہ جسم میں روح ڈالی گئی ہے۔کام کے لیے ہاتھ ، چلنے کے لیے پاؤں ، سونگھنے کے لیے ناک ، سننے کے لیے کان ، بولنے کے لیے زبان ، سانس کے لیے نتھنے ، عقل کے لیے دماغ اور محسوسات کے لیے دل دے رکھا ہے۔ہر عضو کا اپنا فعل و کردار ہے۔ حُسن و ادا ہے۔ خوب صورتی کی عمدہ مثال و ترکیب ہے۔
حب الوطنی ایک فطری جذبہ ہے جو پیدا ہونے کے ساتھ ہی جنم لیتا ہے۔انسان جیسے جیسے اس ماحول میں پرورش پاتا ہے۔ وہ اُسی ماحول کا حصہ بن کر اپنی سرگرمیاں فروغ دیتا ہے۔ہر انسان اپنے اندر دل چسپی اور غیر دل چسپی جیسے عناصر رکھتا ہے، لیکن ماحول کی خوب صورتی دل چسپی کے باعث بڑھتی ہے۔انسان اپنے ارادوں اور جذبوں کی مرہون منت ترقی کے خواب پورے کرتا ہے۔تعلیم و تربیت کے چھوڑے ہوئے نقوش زندگی کے زخموں کو بھرنے کا بہترین علاج ثابت ہوتے ہیں۔انسان اپنی فطرت میں ملے جُلے رحُجانات رکھتا ہے۔اُس کے جسم و روح میں متضاد کیفیتیں پیدا ہوتی ہیں۔البتہ جیت مثبت خیال کی ہی ہوتی ہے۔ وہ اپنے گرد و پیش کے ماحول سے ہر ممکن مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔یہی حب الوطنی اور اعلی ظرف کی مثال ہے۔
انسان فطری طور پر محبت کا مجسمہ ہے۔ سب ہاتھ میں ہاتھ اور قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔لیکن یہ جذبات اس وقت مجروح ہوتے ہیں، جب کسی ایک فرد کی طرف سے انکار کے کانٹوں کا گچھا ہاتھ میں تھما دیا جاتا ہے۔پھر اچانک کانٹوں کی چُھبن سے راہیں جُُدا ہو جاتی ہیں۔ قدم رک جاتے ہیں۔سوچ مفلوج ہو جاتی ہے۔ خوشی روٹھ جاتی ہے۔اُداسی کی گھٹائیں چھا جاتی ہیں۔
البتہ دنیا میں جو لوگ اپنے اندر وطن پرستی اور مٹی کی خوش بُو کا احساس رکھتے ہیں۔وہ لاکھ دُکھوں، آزمائشوں اور مُصیبتوں کے باوجود بھی محبت کی رُپوح سے مُعمور رہتے ہیں۔
اگرچہ زمین ایک ہے لیکن اس کی تقسیم براعظموں اور ممالک کی صورت میں ہوئی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی ملک طاقت ور ہے اور کوئی غریب۔کوئی ایٹمی طاقت ہے اور کوئی بغیر ایٹمی طاقت کے۔ کوئی سائنسی اعتبار سے قابل رشک بن گیا اور کوئی اپنی عجلت کے باعث پیچھے رہ گیا۔
لیکن جس بھی حواری سے بات کرو، وہ اپنے اندر وطن پرستی کا جوش و جذبہ ضرور رکھتا ہے۔ اپنی مٹی کی خوش بُو سانسوں میں بسا کے رکھتا ہے۔وقت آنے پر اپنے جذبات کا برملا اظہار کرتا ہے۔ یہ کیفیت قدرتی طور پر وراثت میں منتقل ہوتی ہے۔لیکن تکلیف دے لمحے تب پیدا ہوتے ہیں جب کوئی غدار بن جاتا ہے۔تو وطن کی مٹی اداس ہو جاتی ہے۔ اس کا چہرہ غم کی گھٹاؤں سے بھر جاتا ہے۔ دل غموں سے چھلنی ہو جاتا ہے۔ رُوح بے چین ہو جاتی ہے۔ اُس کی رُوح اُسی وقت آسیب زدہ ہو جاتی ہے جب بغاوت کے جراثیم اُس کی سوچ کو مفلوج بنا دیتے ہیں۔
اگر ہمارے نتھنوں میں واقعتاً مٹی کی خوش بُو بسی ہے تو ہمارے کردار سے پتہ چلنا چاہیے۔ کام سے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ وطن کی ترقی میں کتنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یقیناً ایسے اوصاف جن کی کوئی مخالفت نہیں کر سکتا وہ ایمانداری ، عدل و انصاف ، عفو درگزر ، پاکیزگی ، ذمہ داری ، فرض شناسی ، اخلاص اور مثبت سوچ مہذب شہری بنا دیتی ہے۔اگر واقع ہماری سانسوں میں مٹی کی خوش بُو گردش کرتی ہے تو اُس کا ثبوت عملی مظاہرے کی صورت میں ہونا چاہیے۔چوں کہ باتیں محض مُنھ کی محتاجی کا نام ہے، جب کہ عمل فتح کا جھنڈا لہرانے کا نام ہے۔آئیں اس مہم کو اپنے گلی محلے سے شروع کر کے ایوان بالا تک لے جائیں تاکہ وہ تمام شکوے ختم ہو جائیں جو ایک مہذب قوم کی راہ میں کانٹوں کی مانند بکھرے پڑے ہیں۔
