Baaghi TV

آئینہ کس کو دکھائیں؟تحریر: مبراء عبدالقیوم

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں۔ جہاں معلومات بہت ہیں مگر شعور کم ہے۔ رابطے بہت ہیں مگر تعلق کم ہے۔ زبانیں بہت ہیں مگر سچ کم ہے۔ ہم عبادت تو کرتے ہیں مگر عبادت کا اثر ہمارے کردار میں اس کی جھلک کم دکھائی دیتی ہے۔
ہمیں ہر چیز کی فکر ہے، سوائے اس کے کہ ہم بحیثیت انسان کہاں کھڑے ہیں۔
آج ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔۔۔۔۔

ہمیں مہنگائی کا شکوہ ہے، مگر اپنی استطاعت کے مطابق کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھامنے کی فرصت نہیں ہے۔ ہمیں بے روزگاری کا دکھ ہے مگر کسی مستحق کو کام دینے کے بجائے اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے میں دیر نہیں لگاتے ہیں۔ ہمیں معاشرے میں بڑھتی ہوئی بددیانتی پر غصہ آتا ہے مگر دکان پر چند روپے بچانے کے لیے غلط بیانی کو برا نہیں سمجھتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں ملک میں کرپشن بہت ہے، لیکن جب ہمارا اپنا کام سفارش یا ناجائز راستے سے آسان ہوجائے تو ہم اسے "مجبوری” کہہ دیتے ہیں۔
آخر اصول صرف دوسروں کے لیے کیوں ہیں؟ ہماری سب سے بڑی بیماری شاید یہ نہیں کہ ہم برائی نہیں پہچانتے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے لیے برائی کا معیار بدل لیتے ہیں۔
دوسرے جھوٹ بولیں تو ہم انہیں جھوٹا کہتے ہیں، خود بولیں تو "حکمتِ عملی” کہہ دیتے ہیں۔ دوسرا حق مارے تو ظالم، خود ماریں تو "موقع سے فائدہ اٹھانا” ہے۔ دوسرا سفارش کرے تو نااہل، خود کرے تو "تعلق کام آ گیا” تھا۔ دوسرا فضول خرچی کرے تو دکھاوا، خود کریں تو "اسٹیٹس” ہے۔
یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں ہر شخص اپنے کردار کے لیے الگ قانون چاہتا ہے؟
ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ معاشرے صرف قوانین سے نہیں بنتے، ضمیر سے بنتے ہیں۔ اور جب ضمیر سو جائے تو قانون کی ہزار کتابیں بھی انسان کو اچھا نہیں بنا سکتی ہیں۔
آج ہمارے گھروں میں بھی ایک عجیب تبدیلی آ رہی ہے۔
ہم بچوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں، مگر اچھا انسان بنتا ہوا دیکھنا شاید ہماری پہلی ترجیح نہیں رہی ہے۔
ہم پوچھتے ہیں: "کتنے نمبر آئے؟”۔۔۔۔۔”کلاس میں کون سی پوزیشن ہے؟”۔۔۔۔۔”کس یونیورسٹی میں داخلہ ہوگا؟”
مگر کتنی بار پوچھتے ہیں:
"آج تم نے کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟”
ہم انہیں انگریزی سکھاتے ہیں، کمپیوٹر سکھاتے ہیں، مقابلے کی دوڑ میں آگے نکلنا سکھاتے ہیں مگر کیا ہم انہیں یہ بھی سکھا رہے ہیں کہ کمزور کو دیکھ کر اس کا مذاق نہیں اڑانا ہے۔ کسی غریب بچے کے لباس پر ہنسنا کامیابی نہیں ہے۔ کسی ملازم کو حقیر سمجھنا تعلیم نہیں ہے۔ والدین سے اونچی آواز میں بات کرنا آزادی نہیں ہے۔
اور دوسروں کو کچل کر آگے نکل جانا ترقی نہیں ہے۔

ترقی وہ ہے جس میں انسان تو آگے بڑھے مگر انسانیت نہ پیچھے رہ جائے۔ ہماری ایک اور بڑی آزمائش سوشل میڈیا ہے۔ آج ایک شخص ہزاروں لوگوں سے جڑا ہوا ہے مگر اپنے گھر کے چند افراد سے بات کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔ ہم کسی اجنبی کی پوسٹ پر لمبا تبصرہ کر سکتے ہیں مگر ماں کی بات سننے کے لیے چند منٹ نہیں ہیں۔
کسی مشہور شخصیت کی سالگرہ یاد رہتی ہے مگر والدین کی دواؤں کا وقت یاد نہیں رہتا ہے۔
ہم دوسروں کی زندگی دیکھ دیکھ کر اپنی زندگی سے ناخوش ہوتے جا رہے ہیں۔
کسی کا نیا گھر دیکھ کر حسد، کسی کی نئی گاڑی دیکھ کر بے چینی، کسی کی بیرونِ ملک سیر دیکھ کر احساسِ محرومی،کسی کی خوشی دیکھ کر اپنے نصیب سے شکایت۔
ہم نے سوشل میڈیا کو دوسروں کی زندگی کا شوکیس بنا لیا اور اپنی زندگی کو اس کے مقابلے میں ناپنا شروع کردیا ہے۔ حالانکہ جو کچھ اسکرین پر دکھائی دیتا ہے، ضروری نہیں وہ پوری حقیقت بھی ہو۔
ہمیں اپنی زندگی کی نعمتیں اس لیے نظر نہیں آتیں کہ ہماری نگاہ دوسروں کے حصے پر لگی ہوئی ہے۔ اور پھر ہم شکوہ کرتے ہیں کہ سکون کیوں نہیں ہے؟
سکون صرف بڑی تنخواہ، بڑا لگھر اور مہنگی گاڑی کا نام نہیں ہے۔
کبھی سکون حلال کمائی میں ہوتا ہے۔کبھی ماں کی دعا میں ہوتا ہے۔ کبھی باپ کی خدمت میں ہے۔ کبھی کسی کے سر پر ہاتھ رکھنے میں ہے۔ کبھی کسی بھوکے کو کھانا کھلانے میں ہے۔ اور کبھی صرف اس اطمینان میں کہ آج میری وجہ سے کسی انسان کا حق نہیں مارا گیا ہے۔
ہم دین کو بھی اکثر اپنی سہولت کے مطابق سمجھنے لگے ہیں۔
نماز چاہیے مگر معاملات میں دیانت مشکل ہے۔ روزہ چاہیے، مگر زبان کی حفاظت مشکل ہے۔ صدقہ چاہیے مگر ملازم کی پوری اجرت دینا مشکل ہے۔ حج و عمرہ کی خواہش ہے مگر والدین کی خدمت بوجھ لگتی ہے۔
ہم چاہتے ہیں اللہ ہمیں معاف کردے مگر خود دوسروں کو معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ےہیں۔ ہم چاہتے ہیں اللہ ہمارے عیب چھپا لے، مگر دوسروں کے عیب اچھالنے میں ہمیں لطف آتا ہے۔
یہ کیسا تعلق ہے جس میں ہم اللہ سے رحمت چاہتے ہیں مگر اس کی مخلوق پر رحم نہیں کرتے؟
قرآن ہمیں عدل، احسان، صلہ رحمی، امانت اور تقویٰ کا درس دیتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے حسنِ اخلاق کو ایمان کی خوبصورتی قرار دیا ہے۔

مگر ہم نے دین کو صرف مسجد تک محدود کر دیا تو بازار میں دیانت کہاں سے آئے گی؟ ہم نے دین کو صرف عبادت تک محدود کر دیا تو معاملات میں تقویٰ کہاں سے آئے گا؟ دین اگر ہمارے رویے میں نہیں اتر رہا تو ہمیں اپنے علم سے زیادہ اپنے عمل کا محاسبہ کرنا ہوگا۔
آج ہمارے معاشرے میں رشتے بھی عجیب امتحان سے گزر رہے ہیں۔ بھائی بھائی سے ناراض ہے۔ بہن بہن سے بدگمان ہے۔ اولاد والدین کے لیے مصروف ہے۔ والدین اولاد کے لیے پریشان ہیں۔ ایک ہی خاندان کے لوگ ایک دوسرے کی خوشی سے زیادہ ایک دوسرے کی ناکامی دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ہمیں دوسروں کی غلطیاں یاد رہتی ہیں، اپنی نیتیں بھول جاتی ہیں۔ہم معافی مانگنے کو اپنی شکست سمجھتے ہیں۔حالانکہ کبھی کبھی "مجھے معاف کر دو” انسان کو چھوٹا نہیں، بہت بڑا بنا دیتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسل کو کیا دے رہے ہیں؟
صرف مہنگے موبائل؟ صرف اچھی ڈگریاں؟ صرف جائیداد؟ صرف بینک بیلنس؟

اگر ہمارے بچے سب کچھ حاصل کرکے بھی سچ، حیا، احترام، برداشت، رحم اور امانت کھو دیں۔ تو سوچیں ہم نے انہیں کامیابی دی یا صرف سہولت دی ہے؟ قومیں عمارتوں سے نہیں بلکہ قومیں کردار سے بنتی ہیں۔ اور کردار تقریروں سے نہیں روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے فیصلوں سے بنتا ہے۔ جب کوئی دیکھ نہ رہا ہو اور ہم پھر بھی امانت میں خیانت نہ کریں۔ جب ہمیں بدلہ لینے کا موقع ملے اور ہم معاف کردیں۔ جب ہم کسی کمزور کو آسانی سے دبا سکتے ہوں مگر اس کا حق دے دیں۔ جب ہمیں جھوٹ سے فائدہ ہو سکتا ہو مگر ہم سچ کا انتخاب کریں۔
جب ہمارے پاس بہت ہو اور ہم اس شخص کو یاد رکھیں جس کے پاس کچھ نہیں ہے۔
یہیں سے معاشرے بدلتے ہیں۔
ہم کب تک ہر مسئلے کا ذمہ دار کسی دوسرے کو ٹھہراتے رہیں گے؟
کب تک حکومت، میڈیا، نئی نسل، نصاب، حالات اور زمانے کو موردِ الزام ٹھہراتے رہیں گے؟
کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھیں۔
شاید خرابی صرف باہر نہیں۔
ہم میں بھی ہے۔

شاید جس معاشرے سے ہم شکوہ کرتے ہیں، وہ معاشرہ ہم ہی سے بنا ہے۔ اگر بازار میں دھوکا ہے تو اس بازار میں خریدار اور فروخت کنندہ ہم ہی ہیں۔ اگر سڑک پر بدتمیزی ہے تو گاڑی چلانے والوں میں ہم بھی شامل ہیں۔ اگر گھروں میں بے سکونی ہے تو ان گھروں کے مکین بھی ہم ہی ہیں۔ اگر نسلیں بدل رہی ہیں تو ان نسلوں کی تربیت کرنے والے بھی ہم ہی ہیں۔
تو پھر سوال بہت سادہ ہے:
کب جاگیں گے؟
کیا اس وقت جب ہمارے بچوں کو ہماری نصیحتیں مذاق لگنے لگیں؟
جب والدین ہمارے لیے صرف ایک ذمہ داری بن جائیں؟
جب رشتے صرف تہواروں کی مبارک باد تک محدود رہ جائیں؟
جب ہمارے پاس آسائشیں تو بہت ہوں مگر دل میں سکون نہ ہو؟
جب مسجدیں آباد ہوں مگر معاملات بددیانتی سے بھرے ہوں؟
یا پھر آج… اسی لمحے؟
کیونکہ تبدیلی ہمیشہ کسی بڑے اعلان سے شروع نہیں ہوتی ہے۔ کبھی ایک شخص جھوٹ چھوڑتا ہے۔ کبھی ایک شخص حرام کمائی سے انکار کرتا ہے۔ کبھی ایک شخص اپنے والدین کو وقت دیتا ہے۔
کبھی ایک شخص کسی غریب کی عزتِ نفس بچاتے ہوئے اس کی مدد کرتا ہے۔
ایک شخص اپنے بچے کو صرف کامیاب نہیں بلکہ صالح انسان بنانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اور پھر شاید یہی چھوٹی چھوٹی بیداریاں ایک دن معاشرے کی تقدیر بدل دیتی ہے۔
ہمیں پورے معاشرے کو جگانے سے پہلے اپنے اندر کے انسان کو جگانا ہوگا۔ کیونکہ قومیں ایک ساتھ نہیں جاگتی ہیں۔
پہلے ایک ضمیر جاگتا ہے۔ پھر ایک گھر بدلتا ہے۔ پھر چند رویے بدلتے ہیں۔ اور پھر معاشرے کی سمت بدلنے لگتی ہے۔
تو پھر دیر کس بات کی ہے؟
کب جاگیں گے؟
کل؟
کسی حادثے کے بعد؟ کسی نقصان کے بعد؟ کسی جنازے کے بعد؟ یا اس سے پہلے کہ وقت ہمارے ہاتھ سے نکل جائے؟
آج اپنے آپ سے صرف ایک سوال کیجیے:
اگر معاشرے کو بدلنے کے لیے کسی ایک انسان کو بدلنا ضروری ہو…تو وہ انسان ہم کیوں نہ ہوں؟

More posts