وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب میں مکمل اور جزوی تباہ شدہ مکانات کے مالکان کو مالی معاونت فراہم کرنے سمیت متاثرہ علاقوں میں بجلی کی ترسیل کے نظام اور سڑکوں کو جلد بحال کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ انھوں نے یہ ہدایت ملک میں حالیہ مون سون بارشوں اور اُن سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی ۔
اجلاس میں وفاقی وزرا،چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز، چیئرمین این ڈی ایم اے سمیت متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔ اجلاس میں وزیراعظم کو حالیہ مون سون کے اثرات اور صوبوں اور این ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی کارروائیوں کی پیشرفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ وفاقی وزراء اور سیکریٹریز کو متاثرہ علاقوں میں جا کر بارشوں سے ہونے والے نقصان کا خود جائزہ لینے اور بحالی کا کام شروع کروانے کی ہدایت کی ۔ انھوں نے ہدایت کی کہ شدید بارشوں سے متاثرہ تمام ایسے علاقے جہاں رسائی ممکن نہ ہونے کی وجہ سے امدادی سامان نہیں پہنچ سکا، وہاں جلد سے جلد اشیاء خوردونوش اور دیگر امدادی سامان پہنچایا جائے ۔وزیراعظم نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں مزید تیز کی جائیں اور سیلاب میں جاں بحق تمام افراد کے خاندانوں کی مالی معاونت فراہم کی جائے ۔ انھوں نے آئندہ بارشوں اور سیلاب کے پیش نظر این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیوں کو امدادی کارروائیوں کے لیے مکمل تیار رہنے کی بھی ہدایت کی ۔
اس موقع پر وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ ملک کے تمام متاثرہ علاقوں میں سیلاب متاثرین کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے ۔مزید بارشوں اور سیلاب کے پیش نظر این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز عوام کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پورے ملک میں مون سون بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں 615 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور مزید امدادی سامان بھیجنے کے حوالے سے اقدامات لیے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے، اسی طرح شمالی علاقوں میں ارلی وارننگ سسٹم فعال ہیں جس کی وجہ سے سیلاب سے قبل متعدد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
