وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب اور ترکیہ کا اہم سفارتی دورہ کل سے شروع ہوگا، جس کے تحت وہ پہلے سعودی عرب جائیں گے اور بعد ازاں ترکیہ روانہ ہوں گے جہاں وہ صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے۔ یہ دورہ پاکستان کی متحرک خارجہ پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق انطالیہ ڈپلومیسی فورم 17 سے 19 اپریل تک ترکیہ کے ساحلی شہر انطالیہ میں منعقد ہوگا، جس میں دنیا بھر سے 20 سے زائد سربراہان مملکت، تقریباً 15 نائب رہنما اور 50 سے زائد وزراء شریک ہوں گے جبکہ 150 سے زائد ممالک کے نمائندگان بھی شرکت کریں گے۔
فورم میں عالمی امن، اقتصادی تعاون اور بدلتی ہوئی جغرافیائی صورتحال جیسے اہم موضوعات پر بات چیت کی جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر اہم مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات تاریخی، ثقافتی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر قائم ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط 1947 سے برقرار ہیں۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر ہے جسے 2027 تک بڑھا کر پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
2022 کے ترجیحی تجارتی معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کئی اشیاء پر ٹیرف میں کمی آئی، جس سے پاکستانی ٹیکسٹائل اور ترک صنعتی مصنوعات کو فائدہ پہنچا ہے۔
دفاعی تعاون بھی دونوں ممالک کے تعلقات کا اہم حصہ ہے، جس کے تحت پاکستان نیوی کے لیے جدید جنگی جہاز تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سے دو ترکیہ میں جبکہ دو کراچی شپ یارڈ میں تیار ہو رہے ہیں، جو پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط کریں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی نمایاں
وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب و ترکیہ کا دورہ اگلے چند گھنٹوں میں متوقع
