جسٹس محسن اختر کیانی نے ہائیکورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز سے متعلق حکم جاری کر دیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 48 گھنٹوں میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم دے دیا کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ بارز کو بھی رولز کی کاپیاں فراہم کی جائیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے دورانِ سماعت پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز سے متعلق وکیل سے استفسار کیا جس پر وکیل نے پریکٹس ایند پروسیجر رولز کی تفصیلات سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ہم نے وہ رولز بنائے جو ہمیں بھی نہیں ملے، میں جج ہوں مجھے نہیں ملے، آپ کو کیسے ملیں گے۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز ایک سیکریٹ ڈاکومنٹ ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ رجسٹرار کو لکھ دیں پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز فراہم کرنے کے لیے، وکیل درخواستگزار نے کہا کہ وزارت قانون سے معلوم کیا ہے اب میں درخواست بھی لکھوں گا۔
سیف علی خان نے 16 ہزار کروڑ روپے مالیت کی زمین کا مقدمہ جیت لیا
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ آپ درخواست لکھیں تین مہینے لگ جائیں گے، یہاں کوئی ڈاکومنٹ ہو تو رجسڑار وہ تین تین ماہ تک فراہم نہیں کرتا، 48 گھنٹوں میں ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے کی ہدایت کردی ہے، اگر حکم پر عمل نہیں ہوا تو آپ کرمنل پروسیجر فائل کردینا میں رجسٹرار کو بلا لوں گا۔
وکیل نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت 29 جنوری کو مقرر کردیں، جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس نے ریمارکس دیے کہ 29 کو پتہ نہیں میں یہاں ہوں گا یا نہیں ، عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔
وزیراعظم کی فسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے موثر نظام کی سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت
