وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے ملکی زرعی برآمدات میں اضافہ اور زرعی شعبے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے تشکیل کردہ نجی شعبے کے ماہرین پر مبنی ورکنگ گروپ کے اجلاس کی صدارت کی۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ زرعی اصلاحات اور کسانوں کو عالمی سطح پر رائج جدید طریقہ کار سے روشناس کروانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر زراعت کی ترقی اور اصلاحات کے اقدامات اٹھا رہی ہے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے لیے کسانوں کو معیاری بیج، بروقت اور مناسب قیمت پر کھاد، اور بیماریوں سے بچاؤ کی ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ زرعی اجناس کی پراسیسنگ اور برآمدات کے لیے بھی پالیسی اقدامات مرتب کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں چین میں سرکاری سطح پر ایک ہزار پاکستانی طلبہ و طالبات کو زراعت کی جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کے لیے بھیجا گیا، تاکہ ملکی زرعی شعبے میں ترقی کی بھرپور استعداد کو بروئے کار لایا جا سکے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ موجود وسائل کے اندر رہتے ہوئے تحقیق اور سرمایہ کاری کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ یقینی بنایا جائے گا۔
ماہی گیری، پھلوں اور ان سے تیار شدہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ساحلی پٹی پر پام آئل کی پیداوار کے لیے بھی پالیسی اقدامات تیار کیے جائیں گے۔ وزیرِاعظم نے آئندہ پانچ برس میں زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے واضح لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت بھی دی۔
اجلاس میں چیئرمین ورکنگ گروپ رانا نسیم اور ان کی ٹیم نے ملکی زرعی شعبے کی جامع رپورٹ، شعبے کو درپیش مسائل، اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں ربیع اور خریف کی بڑی فصلوں، اوسط فی ایکڑ پیداوار، ہارٹی کلچر، پھلوں کی پیداوار و برآمدات، گلہ بانی، ڈیری شعبے اور دیگر زرعی شعبوں کا علاقائی اور عالمی تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ قلیل مدتی اصلاحاتی فریم ورک کے تحت موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے لیے وفاقی حکومت معیاری بیج کی فراہمی، مؤثر ایکسٹینشن سروسز، اور جدید زرعی طریقہ کار کے ذریعے کسانوں کی تربیت کرے گی۔
زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے لیے سرٹیفیکیشن رجیم پر کام کیا جائے گا تاکہ عالمی منڈیوں میں مصنوعات کی قدر بڑھے اور کسانوں کے منافع میں اضافہ ہو۔ تحقیقاتی اداروں کی اصلاحات پر بھی جامع لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے تاکہ موجود فصلوں کی پیداوار میں اضافہ اور نئی منافع بخش فصلوں کی کاشت کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیرِاعظم نے ورکنگ گروپ کی بریفنگ کی تعریف کرتے ہوئے قابل عمل، مؤثر اور جامع روڈ میپ تیار کر کے حکومتی اصلاحات میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔
وزیرِاعظم کا زرعی برآمدات اور اصلاحات اجلاس کی صدارت
