اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے اور اس کی جگہ 10 روپے کا سکہ جاری کرنے کی تجویز وفاقی حکومت کو منظوری کے لیے بھجوا دی ہے۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں نئے کرنسی نوٹوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے بتایا کہ نئے کرنسی نوٹ جاری ہونے کے بعد 10 روپے کا نوٹ چھاپنا بند کر دیا جائے گا اور اس کی جگہ سکہ جاری ہوگا۔ڈپٹی گورنر کے مطابق 10 روپے کے کرنسی نوٹ کی طباعت پر آنے والی لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کی بنیاد پر اسے ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب نئے کرنسی نوٹ چھاپے جائیں گے تو 10 روپے کا نوٹ نئے ڈیزائن کا حصہ نہیں ہوگا۔
اجلاس میں نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن اور جعلی کرنسی کی روک تھام کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ڈاکٹر عنایت حسین نے بتایا کہ نئے نوٹوں کے ڈیزائن کو وزیر خزانہ کی زیرصدارت کمیٹی نے مسترد کیا تھا، جس کے بعد کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں نئے فیچرز اور ڈیزائن میں تبدیلیاں شامل کی جا رہی ہیں۔مرکزی بینک کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت ایک ہزار اور پانچ ہزار روپے کے جعلی نوٹ زیادہ گردش میں ہیں، جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ نئے نوٹ جاری ہونے کے باوجود جعلی کرنسی کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکے گا۔چیئرمین قائمہ کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے انکشاف کیا کہ جعلی کرنسی کی صورتحال اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ بعض دکاندار ایک ہزار اور پانچ ہزار روپے کے نوٹ قبول کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں سے بھی جعلی کرنسی نکلنے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
سلیم مانڈوی والا نے شکوہ کیا کہ اسٹیٹ بینک نے ان کے 15 ہزار روپے دو سال سے واپس نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سال قبل انہوں نے اسٹیٹ بینک کو تین نوٹ دیے تھے جو اب تک واپس نہیں کیے گئے۔ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ موجودہ کرنسی نوٹوں کی طباعت 2005 میں شروع ہوئی تھی اور اب نئے کرنسی نوٹ جاری کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ نئے نوٹوں کے ڈیزائن کے لیے کنسلٹنٹ کی ایک کمپنی کے ساتھ معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں پاکستان میں جعلی کرنسی کی گردش نسبتاً کم ہے، تاہم کمیٹی ارکان نے جعلی نوٹوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیا۔
