Baaghi TV

مودی حکومت میں بھارتی نظام صحت بدحالی کا شکار، ہسپتالوں میں عملے کی شدید کمی

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے دوران معیشت کے دیگر شعبوں کے ساتھ ملک کے نظام صحت کو بھی سنگین مسائل کا سامنا ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جہاں سرکاری اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹرز اور طبی عملے کی کمی کے باعث مریضوں کو علاج کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بھارتی جریدے ’دی وائر‘ میں شائع پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے بیشتر ضلعی اسپتالوں میں ماہر امراض گردہ، ڈائیلاسز ٹیکنیشن اور یورولوجسٹ دستیاب نہیں ہیں، جس کے باعث گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کو علاج کی سہولیات کے حصول میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کی کم از کم 29 ریاستوں اور وفاقی علاقوں کے کسی بھی ضلعی اسپتال میں ماہر امراض گردہ موجود نہیں، جبکہ کئی ریاستوں میں گردوں کے علاج سے متعلق طبی عملے کی آسامیاں تک منظور نہیں کی گئیں۔

پارلیمانی کمیٹی نے بتایا کہ بھارت میں 13 سے 16 فیصد نوجوان گردوں کے امراض کا شکار ہیں، تاہم اس حوالے سے تازہ اور جامع اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق گردوں کے امراض میں اضافے کے باوجود سرکاری سطح پر ماہرین اور طبی سہولیات کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے۔

دوسری جانب ’انڈین ایکسپریس‘ میں شائع لانسیٹ کمیشن کی رپورٹ میں بھی بھارتی نظام صحت کو درپیش مختلف مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں صحت کی سہولیات کے معیار میں نمایاں عدم مساوات، دستیاب وسائل کے ناقص استعمال اور شہریوں کے لیے ناکافی مالی تحفظ جیسے مسائل موجود ہیں۔

رپورٹ میں اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں صحت کی سہولیات یکساں طور پر دستیاب نہیں، جس کے باعث کم آمدنی والے اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو معیاری علاج کے حصول میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کو صحت اور تعلیم جیسے بنیادی عوامی مسائل پر زیادہ توجہ دینی چاہیے، تاہم اس کے بجائے سیاسی اور نظریاتی معاملات کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق اس صورتحال سے عوامی فلاح کے اہم شعبوں کو نظر انداز کیے جانے کا تاثر پیدا ہوا ہے۔

بھارت میں صحت کے نظام سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس نے سرکاری اسپتالوں میں طبی عملے کی کمی، ماہر ڈاکٹروں کی عدم دستیابی اور شہریوں کو علاج کے لیے درپیش مشکلات پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

More posts