ن لیگ کے صوبائی صدر اور مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ نے پارٹی قائد نواز شریف کو تجویز دی ہے کہ پارٹی کا مرکزی سیکریٹری جنرل پنجاب کے علاوہ کسی اور صوبے سے ہونا چاہیے-
نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف پارٹی کے مختلف عہدوں پر بڑی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں، اس حوالے سے جلد ہی پارٹی کا مرکزی اجلاس بلانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ پارٹی صدر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ آپ مرکزی پارٹی کو دیکھیں، احسن اقبال اپنی وزرات کے اندر مصروف ہیں اور بہت سے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ مجھے آفر کروائی گئی کہ پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل بن جائیں لیکن میں اس عہدے کے لیے تیار نہیں ہوں –
ایران کے رہائشی علاقوں پر اسرائیل کےشدید فضائی حملے
ان کے مطابق میں نے پارٹی صدر میاں نواز شریف کو تجویز دی ہے کہ پارٹی کا مرکزی سیکریٹری جنرل پنجاب کے علاوہ کسی اور صوبے سے ہونا چاہیے، پارٹی صدر بھی پنجاب سے ہو اور مرکزی سیکریٹری جنرل بھی پنجاب سے ہو یہ ٹھیک نہیں ہے، اس عہدے پر تبدیلی لائے جائے،اگر پارٹی نے مجھے مرکزی جنرل سیکریٹری بنایا تو میں قائم مقام سیکرٹری جنرل بنوں گا کیونکہ میں وفاق میں بہت مصروف ہوں ،پارٹی کا اگر مرکزی سیکریٹری جنرل مجھے بنایا گیا تو میرے لیے پنجاب میں بیٹھنا بہت ضروری ہوگا-
رانا ثنا اللہ بتایا کہ میں نے تجویز دی ہے کہ پنجاب کے حد تک نئی تنظیم سازی کی جائے، پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے، جنوبی پنجاب، وسطحی پنجاب کا الگ سے پارٹی صدر ہو اور سنٹرل پنجاب میں الگ سے تاکہ منظم طریقے سے پارٹی کو چلایا جا سکے ڈویژن اور ضلعی صدور کو تبدیل کیا جائے اور تمام عہدوں کی مدت 5 سال کی جائے تاکے جس سطح پر عہدے دیے جائیں وہاں پر کام ہو سکے ، حمزہ شہباز شریف پنجاب کے صدر کے لیے بہترین چوائس ہیں اگر وہ مان جائیں تو یہ پارٹی کے لیے بہت اچھا ہوگا، پارٹی کے لوگوں کے جو مسائل ہیں وہ با آسانی حل ہو سکیں گے۔
تہران کی فضا میں لڑاکا طیارے، بمباری سے یہودی عبادت گاہ ملبے کا ڈھیر
