Baaghi TV

پنجاب میں مریم نواز کی مقبولیت، دعووں سے عمل تک کا سفر،تجزیہ: شہزاد قریشی

پنجاب میں مریم نواز کی مقبولیت، دعووں سے عمل تک کا سفر

پنجاب کی سیاست میں اس وقت سب سے زیادہ زیرِ بحث نام وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف کا ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کی حکومت کو اگر کسی ایک بنیاد پر پرکھا جائے تو وہ ہے عام آدمی کے مسائل کا براہِ راست نوٹس اور فوری اقدامات۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے شہری و دیہی علاقوں میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ مریم نواز کی مقبولیت آخر کہاں تک جا پہنچی ہے؟ گزشتہ چند ماہ میں پنجاب حکومت نے جن شعبوں پر توجہ مرکوز کی، ان میں صحت، تعلیم، تجاوزات کے خلاف کارروائیاں، سرکاری دفاتر میں نظم و ضبط، مہنگائی کنٹرول، اور بیوروکریسی کی جوابدہی نمایاں ہیں۔ خاص طور پر کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو فیلڈ میں متحرک کرنے، کھلی کچہریوں اور عوامی شکایات کے فوری ازالے نے حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کم کیے ہیں۔

مریم نواز کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ کاغذی فائلوں کے بجائے زمینی حقائق پر یقین رکھتی دکھائی دیتی ہیں۔ تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں ہوں یا سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات اور سہولیات کی فراہمی، ان اقدامات نے عام شہری کو یہ احساس دلایا کہ حکومت واقعی اس کی دہلیز تک پہنچی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مریم نواز کی مقبولیت اس وقت پنجاب کے شہری متوسط طبقے، سرکاری ملازمین اور کمزور طبقات میں خاصی مضبوط ہو چکی ہے۔ وہ طبقہ جو ماضی میں حکومتی دعووں سے مایوس تھا، اب عملی اقدامات کی وجہ سے محتاط امید کا اظہار کر رہا ہے۔ البتہ دیہی علاقوں میں یہ مقبولیت بتدریج بڑھ رہی ہے، جہاں مسائل کی نوعیت زیادہ گہری اور دیرینہ ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مقبولیت کا اصل امتحان تسلسل میں ہوتا ہے۔ اگر موجودہ اصلاحاتی عمل برقرار رہا، بیوروکریسی کو سیاسی دباؤ کے بغیر عوامی خدمت پر مجبور رکھا گیا اور مہنگائی و روزگار جیسے بنیادی مسائل پر ٹھوس پیش رفت ہوئی تو مریم نواز کی مقبولیت محض وقتی نہیں بلکہ دیرپا سیاسی سرمایہ بن سکتی ہے۔ پنجاب میں مریم نواز کی مقبولیت اس مرحلے پر ہے جہاں اعتماد بنتا ہوا نظر آ رہا ہے، مگر فیصلہ ابھی باقی ہے۔ عوام نے انہیں موقع دیا ہے، اب یہ ان کی حکمرانی کے تسلسل اور نتائج پر منحصر ہے کہ یہ مقبولیت عروج تک پہنچتی ہے یا محض ایک مضبوط آغاز تک محدود رہتی ہے۔

More posts