Baaghi TV


کیف پر حملے کے بعد پیوٹن کو بریفنگ، کریملن نے یوکرین جنگ پر اختلافات کا اعتراف کر لیا

Putin

‎روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین کے دارالحکومت کیف پر رات بھر کیے گئے بڑے حملے سے متعلق اعلیٰ فوجی قیادت نے بریفنگ دی ہے، جبکہ کریملن نے پہلی بار یہ تسلیم کیا ہے کہ یوکرین جنگ کے حوالے سے روسی حلقوں میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
‎کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ کیف پر حملہ روس کی جانب سے ایک "بڑا جوابی حملہ” تھا۔ یوکرینی حکام کے مطابق اس حملے میں کم از کم 18 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے، تاہم امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
‎پیسکوف نے اعتراف کیا کہ روس میں جنگ کے حوالے سے مختلف نقطہ نظر موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ماہرین اور حلقے انتہائی سخت اقدامات کے حامی ہیں، جبکہ کچھ افراد زیادہ محتاط حکمت عملی اختیار کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایک بات طے ہے کہ روس اپنی قومی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گا۔
‎حالیہ ہفتوں میں یوکرین کے کامیاب ڈرون حملوں اور جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی کوششوں میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد روس کے بعض سخت گیر حلقے صدر پیوٹن پر مزید جارحانہ کارروائیاں کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
‎یورپی یونین کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کریملن کے ترجمان نے کہا کہ روس اپنے طے شدہ مقاصد کے حصول کے لیے کیف حکومت پر دباؤ مزید بڑھاتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو یورپی یونین کی جانب سے براعظم کو مزید عسکری بنانے کی پالیسی کا جائزہ لے رہا ہے اور مناسب ردعمل پر غور جاری ہے۔

More posts