تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں دنیا بھر سے اعلیٰ شخصیات اور سرکاری وفود کی شرکت متوقع ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تقریب میں تقریباً 100 ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے، جن میں سربراہان حکومت، پارلیمانی اسپیکرز، وزرائے خارجہ، خصوصی ایلچی، سیاسی شخصیات اور عوامی وفود شامل ہوں گے۔
پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف آئندہ چند روز میں تہران پہنچیں گے جہاں وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کریں گے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم کے دورے کا مقصد ایرانی قیادت اور عوام سے اظہارِ ہمدردی اور تعزیت کرنا ہے۔ پاکستان حالیہ عرصے میں ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں میں بھی اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
چین کی نمائندگی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین ہی وی کریں گے۔ چینی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ بیجنگ کی جانب سے سرکاری وفد کی قیادت کریں گے۔
بھارت کی جانب سے نائب وزیر خارجہ شری پابیترا اور ریاست بہار کے گورنر سید عطا حسنین آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے بھی اپنے وفد کی شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب نہ صرف سابق سپریم لیڈر کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع ہوگی بلکہ ایران اپنے بین الاقوامی سفارتی تعلقات، داخلی استحکام اور قومی یکجہتی کا پیغام بھی دنیا کے سامنے پیش کرے گا۔
اگرچہ تقریب میں متعدد ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود شریک ہوں گے، تاہم چند ہی ممالک کے سربراہان حکومت یا صدور خود شرکت کریں گے۔ بیشتر ممالک نے وزرا، پارلیمانی رہنماؤں یا خصوصی نمائندوں کو تہران بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق مختلف ممالک سے آنے والے وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور تہران میں آخری رسومات کے لیے سکیورٹی اور انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں تقریباً 100 ممالک کی شرکت
