Baaghi TV

پرویز رشید کی آواز اور ہمارے سیاسی رویّے،تجزیہ : شہزاد قریشی

پرویز رشید کی آواز اور ہمارے سیاسی رویّے

پروٹوکول نہیں، کردار کی سیاست ہی قوموں کو عظمت دیتی ہے

گارڈز کے حصار سے نکل کر عوام کے درمیان آنے کا وقت

سیاست کا اصل زیور سادگی، خدمت اور کردار ہے

تجزیہ شہزاد قریشی

سینیٹ میں پمز ہسپتال کے افسوسناک واقعے پر سینیٹر پرویز رشید کی تقریر محض ایک سیاسی خطاب نہیں تھی بلکہ پورے نظام کے لیے ایک آئینہ تھی۔ انہوں نے ایسے الفاظ میں گفتگو کی جس نے پارلیمنٹ، سرکاری اداروں اور انتظامی ڈھانچے کو اپنی ذمہ داریوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان کی باتوں میں تلخی نہیں تھی، مگر سچائی ضرور تھی، اور سچائی ہمیشہ جھنجھوڑتی ہے۔ پرویز رشید ان چند سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی عملی زندگی سے بھی سادگی اور وقار کی مثال قائم کی۔ آج کے دور میں جب بعض سیاسی شخصیات چند قدم چلنے کے لیے بھی مسلح گارڈز اور لمبے پروٹوکول کی محتاج نظر آتی ہیں، پرویز رشید کی شخصیت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ عوامی تقریبات ہوں، شادی بیاہ کی محفلیں ہوں یا روزمرہ کی زندگی، انہوں نے ہمیشہ ایک عام شہری کی طرح زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست میں خدمت کے بجائے نمائش کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ بعض لوگ جنازوں اور قبرستانوں تک میں مسلح گارڈز کے حصار میں پہنچتے ہیں، گویا عوام سے قربت کے بجائے فاصلے پیدا کرنا ہی سیاست کا مقصد رہ گیا ہو۔ عوام ایسے مناظر دیکھ کر سوال کرتے ہیں کہ جو لوگ غم اور دعا کے مواقع پر بھی پروٹوکول سے باہر نہیں نکل سکتے، وہ عام آدمی کے مسائل کو کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ پرویز رشید نے اپنی تقریر میں نظام کی اصلاح کی بات کی، اور یہ بات بالکل درست ہے۔ اگر ہم واقعی بہتری چاہتے ہیں تو ہمیں ان اداروں سے سیکھنا ہوگا جہاں نظم و ضبط، وقت کی پابندی اور ذمہ داری کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ ترقی یافتہ اور منظم اداروں کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ وہاں اصول افراد سے بڑے ہوتے ہیں اور ذمہ داری ذاتی مفاد پر مقدم ہوتی ہے۔ پاکستان کو ایسے سیاست دانوں کی ضرورت ہے جو عوام کے درمیان اعتماد کے ساتھ چل سکیں، جو اپنی پہچان گارڈز، پروٹوکول اور طاقت کے مظاہرے سے نہیں بلکہ کردار، دیانت اور خدمت سے بنائیں۔ اگر ہمارے سیاسی گلیاروں میں پرویز رشید جیسے زیادہ لوگ ہوں تو سیاست کا وقار بھی بڑھے گا، جمہوریت بھی مضبوط ہوگی اور عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم شخصیت پرستی، دکھاوے اور غیر ضروری پروٹوکول کے کلچر کو خیر باد کہیں اور سادگی، نظم و ضبط اور عوامی خدمت کو اپنی سیاسی روایت بنائیں یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، مہذب اور باوقار پاکستان کی طرف لے جا سکتا ہے۔

More posts