امریکی حکام نے ایران کے مرحوم جنرل قاسم سلیمانی کی بھانجی اور ان کی بیٹی کو گرفتار کرتے ہوئے ان کا گرین کارڈ منسوخ کر دیا،امریکی وفاقی ایجنٹوں نے مرحوم ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی بھانجی اور نواسی کو سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کی جانب سے ان کی قانونی مستقل رہائشی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد حراست میں لے لیا ہے-
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی وفاقی حکام نے سابق ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی شہید کی بھانجی حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی کو گرفتار کر لیا ہے یہ اقدام اس کے بعد کیا گیا جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان کا قانونی مستقل رہائشی (گرین کارڈ) کا درجہ منسوخ کر دیا، ان کی گرفتاری امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفارسمینٹ کی تحویل میں ہونے کے بعد سامنے آئی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق، حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی اب امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی حراست میں ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گرین کارڈ کی منسوخی اور گرفتاری امریکی قوانین کے مطابق کی گئی کارروائی ہے۔
واضح رہے جنرل قاسم سلیمانی کو جنوری 2020 کی صبح بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امریکی فضائی حملے میں شہید کیا گیا تھا اسی حملے میں عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی مارے گئے تھےمرحوم جنرل قاسم سلیمانی ایران کی اسلامی انقلاب گارڈز کور پاسدارانِ انقلاب کی بیرونی شاخ، قدس فورس کے سربراہ تھ وہ ایران اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ بڑھانے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے تھے اور عراق و شام میں لڑائیوں میں اہم قائد کے طور پر جانے جاتے تھے، ان کی شہرت ایران کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ تھی۔
