بھارت میں ایودھیا کے رام مندر سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت اور مندر انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ رام مندر کی انتظامیہ پر ہندو عقیدت مندوں کی جانب سے دیے گئے عطیات میں لاکھوں ڈالر کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔دوسری جانب بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے لیے "قوم پہلے نہیں بلکہ چندہ پہلے ہے”۔ادھر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھرگے نے بھی رام مندر منصوبے میں تقریباً 5 ہزار کروڑ بھارتی روپے تک کی مبینہ کرپشن کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی آزاد اور شفاف تحقیقات کرائی جانی چاہییں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان الزامات نے ایک بار پھر بھارت میں مذہبی منصوبوں کی فنڈنگ، عطیات کے استعمال اور مالی شفافیت کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ اپوزیشن اس معاملے کو حکومت کے خلاف ایک اہم سیاسی ایشو کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
