Baaghi TV

ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے،شفیع اللہ جان

kpk

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات، شفیع اللہ جان نے کہا ہے کہ مذاکرات کی آڑ میں دہشتگردی کا کھیل ، اب اور نہیں، ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات، شفیع اللہ جان نے 8 مارچ کو اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا بہترین حل بات چیت کرنا اور قبائلی جرگے ہیں اگرچہ ماضی میں استنبول اور اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں، لیکن جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

لیکن اگر ہم تاریخ اٹھا کر دیکھے تو 2021 سے پاکستان نے افغانستان سے بار بار بات چیت کر کے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن ہر بار افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہوتی رہی مذاکرات کی یہ ناکام تاریخ گواہ ہے کہ 6 جنوری 2021 کو دوحہ میں انٹرا افغان مذاکرات کے دوسرے دور سے لے کر 8 نومبر 2021 میں "گڈ ول جیسچر” کے نام پر صوبائی جیلوں سے 100 سے زائد خطرناک دہشت گردوں کی رہائی تک، ریاست کی رٹ پر سمجھوتہ کیا گیا۔

ایران جنگ میں امریکا کو شکست ہوگی، چینی نوسترادامس کی پیشگوئی

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ 2022 میں مزید وسعت اختیار کر گیا جب اپریل 2022 میں عید کے موقع پر 11 دن کی جنگ بندی ہوئی اور مئی 2022 میں اس وقت کے کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی قیادت میں وفد نے کابل کے سرینا ہوٹل میں ٹی ٹی پی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

اسی دوران محسود قبائل کے 32 رکنی اور ملاکنڈ ڈویژن کے 19 رکنی جرگوں نے مئی 2022 میں کابل میں مذاکرات کیے، جس کے نتیجے میں ٹی ٹی پی نے غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا جون 2022 میں مریم اورنگزیب نے ان مذاکرات کی حکومتی سطح پر تصدیق بھی کی، لیکن ٹی ٹی پی نے فاٹا انضمام کے خاتمے جیسے غیر آئینی مطالبات رکھ کر ریاست کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔

واٹر سپلائی کے پانی سے سانپ کے بچے نکلنے پر تشویش

حالیہ برسوں میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا، جنوری 2024 میں مولانا فضل الرحمٰن کا دورہ کابل اور جولائی 2024 میں مفتی تقی عثمانی صاحب کی قیادت میں جید علماء کے وفود کابل گئے تاکہ مذہبی اور قبائلی بنیادوں پر حل نکالا جا سکے فروری 2025 میں خوست میں عارضی سیز فائر اور 18 اکتوبر 2025 کو دوحہ و استنبو ل کے مذاکراتی راؤنڈز نے بھی یہی ثابت کیا کہ یہ گروہ مذاکرات کو صرف اپنی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان کا مطالبہ اب دوٹوک ہے کہ افغان سرزمین پر فتنہ الخوارج کی پناہ گاہیں اور ان کو ملنے والی سہولت کاری کا مکمل خاتمہ کیا جائے کیونکہ مذاکرات کی آڑ میں معصوم شہریوں کا مزید قتل عام برداشت نہیں کیا جائے گا پاکستان نے تمام سیاسی و سفارتی کوششیں اور آبادکاری کی پالیسیاں ناکام ہونے کے بعد ہی بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور سرحد پار ان ٹھکانوں پر کاری ضرب لگائی جہاں سے پاکستان میں دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی اب ریاست پاکستان سیاست دانوں کی نااہلی کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، اور ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے-


مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب

More posts