روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے زمینی محاذوں پر بڑی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی، تاہم فضائی کارروائیوں میں نمایاں شدت آگئی ہے۔ ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی حملہ کرنے کی صلاحیتیں اس وقت ان کے فضائی دفاعی نظام سے آگے نکلتی دکھائی دے رہی ہیں، جس کے باعث زیادہ میزائل اور ڈرون اپنے اہداف تک پہنچ رہے ہیں۔
عالمی تنازعات کی نگرانی کرنے والے ادارے ACLED کی مشرقی یورپ کی تحقیقاتی منیجر اولہا پولشچک کے مطابق حملوں کے واقعات اور جانی نقصان دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حملوں کے اہداف میں بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنوع دیکھا جا رہا ہے۔
یوکرین نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران روس کے اندر دور تک حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کی ہے، تاہم حالیہ عرصے میں اس کی ڈرون ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔ جون کے آخر میں یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روسی علاقے میں گہرائی تک ڈرون حملوں میں اضافے کے لیے 40 روزہ مہم کا اعلان کیا تھا۔
برطانوی سیکیورٹی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کی محقق ناتیا سیسکوریا کے مطابق حالیہ حملوں نے روس کے فضائی دفاع میں موجود کمزوریوں کو نمایاں کیا ہے اور یوکرین کئی حساس اہداف تک کامیابی سے پہنچ رہا ہے۔
ACLED کے مطابق یوکرین اب روسی آئل ریفائنریوں کے علاوہ تیل کے ٹینکرز، بجلی کے گرڈ، سب اسٹیشنز اور دیگر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔ مقبوضہ مشرقی علاقوں میں روسی فوجی رسد اور لاجسٹکس کو متاثر کرنے کے لیے فضائی حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق روسی معیشت سے متعلق اہداف بھی یوکرینی حملوں کی زد میں آئے ہیں، جن میں روس کی بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی وائلڈ بیریز کے گودام بھی شامل ہیں۔ یوکرینی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان تنصیبات کو روسی فوجی رسد میں استعمال کیے جانے کے باعث فوجی اہداف سمجھا جاتا ہے۔
روس یوکرین جنگ: محاذوں پر جمود، فضا میں حملوں میں تیزی
