Baaghi TV

‎بوشہر ایٹمی پلانٹ پر حملے کی صورت میں روسی عملے کے انخلا کی وارننگ

‎
روس کی سرکاری ایٹمی توانائی کارپوریشن کے سربراہ الیکسی لیخاچیوف نے کہا ہے کہ اگر صورتحال نے تقاضا کیا تو روس ایران کے بوشہر ایٹمی بجلی گھر سے اپنے عملے کے انخلا کے لیے تیار ہے۔
‎روسی سرکاری میڈیا کے مطابق الیکسی لیخاچیوف کا کہنا تھا کہ روس حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ہنگامی انخلا کے اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
‎انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر ہونے والے امریکی حملوں کے دوران بوشہر ایٹمی پلانٹ کو نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔
‎روسی صدر ولادیمیر پوتن اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ بوشہر ایٹمی بجلی گھر میں سیکڑوں روسی ماہرین خدمات انجام دے رہے ہیں۔
‎الیکسی لیخاچیوف نے خبردار کیا کہ اگر بوشہر ایٹمی پلانٹ پر حملہ ہوا تو اس کے نتائج 1986 میں یوکرین میں پیش آنے والے چرنوبل ایٹمی حادثے جتنے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

More posts