سعودی عرب کی خلائی تحقیق کے میدان میں اہم پیشرفت، ‘شمس’ سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کر دیا-
سعودی خلائی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ سعودی سیٹلائٹ ‘شمس’ کو کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا گیا ہے اور اس سے ابتدائی رابطہ بھی قائم کر لیا گیا ہے، یہ سیٹلائٹ آرٹیمس ٹو مشن کے تحت سپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا جس کے بعد سعودی عرب ناسا کے آرٹیمس پروگرام میں شامل ہونے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے، اس پروگرام کا مقصد خلائی تحقیق میں جدت کو فروغ دینا اور عالمی سطح پر سائنسی تعاون کو مستحکم کرنا ہے۔
آرٹیمس II اس پروگرام کا دوسرا مرحلہ ہے، جس میں چار خلا بازوں کو اورین سپیس کرافٹ کے ذریعے چاند کے گرد مدار میں بھیجا جا رہا ہے یہ گزشتہ پچاس برس سے زائد عرصے کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو چاند کے قریب جائے گا، اور مستقبل میں مریخ مشنز کی راہ ہموار کرے گا۔
سعودی سیٹلائٹ "شمس” اس مشن کے سائنسی آلات میں شامل ہے، جو ایک بیضوی مدار (HEO) میں کام کرے گا یہ مدار زمین سے تقریباً 500 کلومیٹر سے لے کر 70 ہزار کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہوگا، جس کے ذریعے شمسی سرگرمیوں اور خلائی شعاعوں کی وسیع پیمانے پر نگرانی ممکن ہوگی۔
دنیا کو غیر ذمہ دار قیادت کے حوالے کیا جا رہا ہے،اقوام متحدہ فوری نوٹس لے،حافظ نعیم
"شمس”کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے یہ آرٹیمس پروگرام میں شامل ہونے والا پہلا عرب مشن ہے اور سعودی عرب کا پہلا باقاعدہ خلائی موسمیاتی (Space Weather) مشن بھی ہے اس سیٹلائٹ کو مقامی ماہرین نے تیار کیا، جسے وژن 2030 کے تحت نیشنل انڈسٹریل ڈویلپمنٹ اینڈ لاجسٹکس پروگرام (این آئی ڈی ایل پی) کی معاونت حاصل رہی۔
یہ مشن چار اہم سائنسی شعبوں میں تحقیق کرے گا، جن میں خلائی شعاعیں، شمسی ایکس ریز، زمین کا مقناطیسی میدان اور شمسی توانائی کے حامل ذرات شامل ہیں اس سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مواصلات، فضائی سفر اور نیویگیشن جیسے اہم شعبوں میں بہتری لانے میں مدد دے گا، جبکہ حساس بنیادی ڈھانچے کی حفاظت اور تیاری کو بھی مضبوط بنائے گا۔
سعودی خلائی ایجنسی کے قائم مقام سربراہ محمد التمیمی کے مطابق یہ کامیابی وژن 2030 کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں مملکت کی تیز رفتار ترقی کی عکاس ہے، جسے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور محمد بن سلمان کی قیادت حاصل ہے، یہ کامیابی اس عزم کی عکاس ہے کہ مملکت جدت، مہارت کی ترقی اور عالمی تعاون کے ذریعے مستقبل کی خلائی تحقیق میں اپنا فعال کردار ادا کرے گی۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے ’’وار روم‘‘ دورے کی ویڈیو وائرل،حقیقت کیا؟
این آئی ڈی ایل پی کے سربراہ جمیل الغامدی کا کہنا ہے کہ ‘شمس’ کی مقامی سطح پر تیاری اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ پروگرام جدید ٹیکنالوجی کو مقامی بنانے اور قومی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
