ایرانی حملوں کی 51 ویں لہر، سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں کی بارش، ایف 35 اور ایف 16طیاروں کے تربیتی مراکز نشانہ
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ 51 لہر کا نام ‘یا علی بن موسی الرضا’ رکھا گیا، یہ حملہ شہید ابو القاسم بابائیان اور ان کی زوجہ کی یاد میں کیا گیا، ایرانی حملوں میں تیزی کی لہر آ گئی، اسرائیل کے پاس میزائل روکنے والے انٹرسیپٹرز کی کمی پڑ گئی جبکہ ایران نے خارگ جزیرے پر امریکی حملہ امارات سے ہونےکا دعویٰ کیا جس کو یو اے ای نے الزام مسترد کردیا-
امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاعی نظام کے لیے انتہائی اہم میزائل انٹرسیپٹرز کی شدید کمی کا سامنا ہےامریکی حکام کے مطابق اسرائیل کئی ماہ سے اپنی محدود دفاعی صلاحیت کے بارے میں امریکا کو آگاہ کر رہا تھا، اسرائیلی حکام نے ہفتے کے روز امریکا کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ بیلسٹک میزائل روکنے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹرز کی تعداد تیزی سے کم ہو گئی ہے، جس کے باعث اسرائیل کے دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں دعویٰ کیاکہ امریکا نے ایران کو فوجی اور معاشی طور پر مکمل شکست دے دی، خارگ جزیرے کا زیادہ تر حصہ مکمل طور پر تباہ کر دیا، ممکن ہےکہ خارگ جزیرے پر صرف تفریح کے لیے چند بار اور حملہ کریں،ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں یا نہیں، یہ ابھی واضح نہیں۔
پی ایس ایل 11: حیدرآباد کے مختصر دورے کے بعد ٹرافی کراچی پہنچ گئی
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز سے تیل لینے والے ممالک اس راستے کی سکیورٹی خود یقینی بنائیں، امریکا ان ممالک کے ساتھ بحری گزرگاہ کے تحفظ کیلئے تعاون کرےگا، یہ ہمیشہ ٹیم ورک ہونا چاہیے، اب دنیا امن اور استحکام کی طرف بڑھےگی،امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران تنازع ختم کر نے کیلئے ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن ابھی تک ایران کی پیش کردہ شرائط اچھی نہیں۔
یو اے ای کے فجیرہ پورٹ پر ڈرون انٹرسیپٹ، اردنی شہری زخمی
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر کہا تھا کہ اُن کی ہدایت پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے فوجی اہداف اور خارگ جزیرہ پر مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے طاقتور ترین حملےکیےصدر ٹرمپ نے کہا کہ کچھ وجوہات کی بنا پر انہوں نے جزیرے کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنےکا حکم نہیں دیا تاہم صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران یا کوئی اور آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ جہاز رانی میں مداخلت کرتا ہے تو وہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔
اسرائیلی حملے میں ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل عبداللہ جلالی شہید
