Baaghi TV

سب سے خطرناک موت وہ ہے، جس پر کوئی جنازہ نہیں ہوتا،تحریر: زینب جہانزیب

ہر موت قبرستان تک نہیں پہنچتی۔ کچھ اموات ایسی بھی ہوتی ہیں جن پر نہ کوئی تعزیت کرتا ہے، نہ کوئی فاتحہ پڑھتا ہے، نہ کسی آنکھ سے آنسو گرتے ہیں۔ وہ خاموشی سے انسان کے اندر وقوع پذیر ہوتی ہیں اور دنیا کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ ایک دن انسان کا خواب مر جاتا ہے، کسی دن اس کا یقین، کسی شام اس کی بےساختہ ہنسی، اور کسی رات وہ خود بھی زندہ رہتے ہوئے اندر سے ختم ہو جاتا ہے۔

عجیب بات ہے، ہم جسم کی موت سے ڈرتے ہیں مگر روح کی موت کو معمول سمجھ لیتے ہیں۔ جب کوئی شخص پہلی بار یہ سوچتا ہے کہ "اب فرق ہی کیا پڑتا ہے”، تو شاید اسی لمحے اس کے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے مر جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ چلتا بھی ہے، بولتا بھی ہے، مسکراتا بھی ہے، مگر ان سب کے پیچھے زندگی نہیں، صرف عادت رہ جاتی ہے۔

ہم ایسے لوگوں سے روز ملتے ہیں۔ دفتر میں، بازار میں، بسوں میں، جامعات میں، حتیٰ کہ اپنے گھروں میں بھی۔ وہ سب زندہ دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کی آنکھوں میں کوئی موسم نہیں اترتا۔ انہیں بارش صرف پانی لگتی ہے، صبح صرف ایک اور مصروف دن، اور رات صرف تھکن کا دوسرا نام۔ یہ وہ لوگ نہیں جنہوں نے زندگی ہار دی، بلکہ وہ ہیں جنہوں نے محسوس کرنا چھوڑ دیا۔

دنیا سمجھتی ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ غربت توڑتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ بےمعنویت توڑتی ہے۔ جب اسے اپنی موجودگی کا مقصد نظر آنا بند ہو جائے، تب اس کے اندر ایک ایسی خاموش ویرانی جنم لیتی ہے جسے کوئی دولت، کوئی شہرت اور کوئی تعریف آباد نہیں کر سکتی۔ ہم نے کامیابی کا مطلب تو سیکھ لیا، مگر زندہ رہنے کا ہنر بھول گئے۔ ہم نے اپنے کمروں کو سجا لیا، مگر اپنے اندر کے ویران گھروں کی خبر نہ لی۔ ہم نے چہروں پر اعتماد اوڑھ لیا، مگر دلوں میں بیٹھے خوف سے کبھی بات نہ کی۔ شاید اسی لیے آج انسان کے پاس ہر سہولت موجود ہے، مگر سکون سب سے نایاب چیز بن چکا ہے۔

سوچیے، اگر آپ کی ساری کامیابیاں آپ سے لے لی جائیں، آپ کا عہدہ، آپ کی پہچان، آپ کی شہرت، آپ کے تعارف کے تمام لفظ… تو کیا بچے گا؟ اگر اس سوال کا جواب آپ کے پاس نہیں، تو شاید آپ نے اپنی شناخت چیزوں میں تلاش کی، اپنی ذات میں نہیں۔

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ زندگی ہمیں آہستہ آہستہ ختم کرتی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہم خود کو تھوڑا تھوڑا کرکے ختم کرتے ہیں۔ ہر اُس دن جب ہم اپنی سچائی کے خلاف فیصلہ کرتے ہیں، ہر اُس لمحے جب ہم خوف کو اپنی خواہش پر ترجیح دیتے ہیں، اور ہر اُس موقع پر جب ہم صرف اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب ہمیں یاد بھی نہیں رہتا کہ ہم اصل میں تھے کون۔

شاید یہی سب سے خطرناک موت ہے۔ وہ موت جس میں سانس باقی رہتی ہے، مگر زندگی نہیں۔ وہ موت جس پر کوئی جنازہ نہیں ہوتا، کیونکہ مرنے والا باہر نہیں، اندر دفن ہوتا ہے۔
اس لیے کبھی فرصت ملے تو اپنی نبض نہیں، اپنے احساسات کو ٹٹولیے۔ دیکھیے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کی آواز اب بھی بول رہی ہو، مگر آپ کی روح مدتوں پہلے خاموش ہو چکی ہو۔ کیونکہ انسان کا سب سے بڑا المیہ مر جانا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی ہی میں اپنی ذات کا آخری گواہ بن جائے۔

More posts