Baaghi TV

صدر ٹرمپ کی چینی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو، وائٹ ہاؤس مدعو کر لیا

china

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کریں گے۔

ٹرمپ نے یہ بات این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جو بدھ کے روز ریکارڈ کیا گیا اسی دن ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان تجارت، تائیوان، یوکرین جنگ اور ایران کی صورتحال سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی گفتگو بھی ہوئی،جبکہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں جب دنیا کی 2 بڑی معیشتیں تجارتی جنگ سے متاثرہ تعلقات کو ازسرِنو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں امکان ہے کہ صدر ٹرمپ اپریل میں چین کا دورہ کریں گے، جس کے بعد صدر شی جن پنگ امریکا کا دورہ کریں گے۔

انٹرویو میں ٹرمپ نے بتایا کہ چینی صدر سال کے آخر میں وائٹ ہاؤس آئیں گے م دنیا کے 2 طاقتور ترین ممالک ہیں اور ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیںصدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ گفتگو کو ’بہترین‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں اس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں کہ تعلقات کو اسی طرح برقرار رکھا جائے۔

چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابقشی جن پنگ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ تجارت سمیت دوطرفہ مسائل بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان خوش اسلوبی سے حل ہو سکتے ہیں شی جن پنگ نے کہا کہ مسائل کو ایک ایک کر کے حل کرتے ہوئے اور باہمی اعتماد کو مضبوط بناتے ہوئے، ہم دونوں ممالک کے درمیان درست طرزِ تعلق قائم کر سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد گزشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ نے مختلف شعبوں پرٹیرف عائد کیے، جن میں اسٹیل، گاڑیاں اور دیگر اشیا شامل ہیں، جبکہ وسیع تر معاشی اقدامات بھی کیے گئے اگرچہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی معاملات پر کشیدگی رہی، تاہم گزشتہ موسم بہارمیں بڑے تصادم کے بعد دونوں ممالک ایک وسیع تر مفاہمت پر پہنچے۔

امریکا کی جانب سے چینی مینوفیکچرنگ پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کے باوجود، دونوں ممالک کی معیشتیں اب بھی گہرے طور پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں آخری بار 2023 میں امریکا کا دورہ کرنیوالے چینی صدر شی جن پنگ نے بدھ کے روز ٹرمپ کو خودمختار تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاملے پر ’احتیاط‘ برتنے کا مشورہ دیا، جسے چین اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔

ادھر جمعے کے روز امریکا نے روس اور چین کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے جوہری ہتھیاروں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی، تاہم بیجنگ نے فی الحال ان مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔

More posts