Baaghi TV

سفاکیت اور بے رحمی،تحریر: عائشہ گُل

شام ڈھل رہی تھی آسمان پر ہلکی ہلکی بوندا باندی تھی اور سورج مغرب میں ڈوبنے والا تھا لیکن آج صحن میں عجیب سناٹا تھا باہر گلی سے بچوں کے کھیلنے کی کوئی آواز نہیں آ رہی تھی نہ قہقہے نہ شور نہ گیند کے ٹھپے گھر کے صحن میں ایک پرانی چارپائی بچھائی تھی اسی چارپائی پر اماں صغرا بیٹھی تھیں سفید دوپٹے کا پلو سر پر لیے ایک ہاتھ میں تسبیح اور دوسرے ہاتھ میں سات سالہ پوتی حور وہ بڑے پیار سے حور کے بال سہلا رہی تھیں مگر ان کی نظریں خلا میں کہیں دور تھیں حور نے معصومیت سے پوچھا دادی امّاں آپ کن خیالوں میں گم ہیں اماں صغرا نے گہری سانس لی ان کی آنکھیں نم ہو گئیں وہ آہستہ سے بولیں بیٹا میں آج سے برسوں پہلے کا زمانہ یاد کر رہی تھی آج سے 50 سال پہلے کا وقت تھا اس وقت شام ہوتے ہی پورے محلے میں بچوں کی گہما گہمی ہوا کرتی تھی گلیوں میں شور قہقہے گیند کے ٹھپے اور دروازے رات گئے تک کھلے رہتے تھے وہ رکیں اور حور کے ماتھے پر بوسہ دیا اور بولیں اور آج دیکھو بیٹا باہر مکمل خاموشی ہے حور نے حیرت سے پوچھا دادی ایسا کیوں ہو گیا اماں صغرا نے حور کو سینے سے لگا لیا اور بولیں بیٹا کبھی یہ دو لفظ سن کر روح کانپ جایا کرتی تھی سفاکیت اور بے رحمی نام سنتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے انسان سوچتا تھا کیا کوئی اتنا گر سکتا ہے اور آج آج یہ سب بہت عام ہو گیا ہے اس بے رحمی نے کسی کو نہیں بخشا مرد عورت بوڑھا بچہ ایک ڈیڑھ سالہ معصوم کلی بھی محفوظ نہیں اور قبر میں لیٹا مردہ بھی محفوظ نہیں۔۔۔۔ ہم کس طرح کے لوگوں میں سانس لے رہے ہیں جہاں انسان کو انسان کہنا بھی مشکل ہے اور درندہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں۔۔۔۔ بیٹا میں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے 50 سال پہلے شفیق چہرے اچھی تربیت سب اچھا تھا یہ کہہ کر دادی اماں نے گہری آہ بھری اور خاموش ہو گئیں۔۔۔۔ حور نے تجس سے پوچھا پھر یہ روشنی کہاں بجھ گئی دادی اماں!اماں صغرا نے دھیمی آواز میں کہا دین سے دوری موبائل کی اسکرین میں قید زندگی سوشل میڈیا کا فضول استعمال ان سب محرکات نے انسان کو خود میں غرق کر لیا ہے۔

حور نے معصوم لہجے میں سوال کیا دادی اماں کیا وہ سنہرا زمانہ کبھی پلٹ کر نہیں آئے گا کیا ہم کبھی کھلی فضا میں کھل کر سانس نہیں لے سکیں گے کیا میں بھی کبھی گلیوں میں دوستوں کے ساتھ ہنس کھیل نہیں سکوں گی ؟؟؟
پھر اماں صغرا نے حور کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اپنے بازو میں لپیٹتے ہوئے کہا بیٹا ہمیشہ کی طرح حل صرف ایک ہی ہے جب تک ہم اپنے اصل کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے اسی طرح دربدر بھٹکتے رہیں گے بہت سی قومیں اپنے اصل کو چھوڑ کر تباہ ہوئیں اور ہم بھی آج تباہی کے کنارے پر نہیں کھڑے بلکہ تباہ ہو چکے ہیں۔۔۔ افسوس! کہ ہمارے پاس وہ نظر بھی نہیں جس سے ہم اپنی تباہی کو دیکھ سکیں یہ کہہ کر دادی جان نے چارپائی کے بالکل پاس ایک چراغ روشن کیا شام کی مدھم روشنی میں اس کی لو کپکپائی وقاص خاموشی سے دادی اماں اور حور کی باتیں سن رہا تھا جیسے ہی دادی اماں نے دیا روشن کیا وقاص بھی اپنے حصے کا دیا لے آیا اور حور کہاں پیچھے رہنے والی تھی۔ وہ مچلتی ہوئی اٹھی اور شوق میں اس نے بھی دیا جلایا۔

تینوں چراغوں کی روشنی صحن میں پھیل گئی دادی اماں نے کہا بیٹا اگر اسی طرح ہر کوئی انسان اپنے حصے کا دیا جلائے جس طرح آج ہمارا یہ صحن تین دیوں سے روشن ہو چکا ہے تو ہمارا معاشرہ بھی روشن ہو جائے گا۔ بے رحمی اور سفاکیت سے پاک ہو کر امن و امان کا گہوارہ بن جائے گا۔ حور زور سے دادی کے ساتھ لپٹ گئی۔ باہر اب بھی سناٹا تھا مگر اس صحن میں روشنی تھی۔

More posts