پاکستان میں جنسی زیادتی کے مجرمین کے لیے سخت سزائیں موجود ہونے کے باوجود سزا پر عمل درآمد کی شرح مایوس کن حد تک کم ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا بوسیدہ اور کمزور نظامِ تفتیش ہے، جہاں فرانزک شواہد کو جدید سائنسی طریقوں سے محفوظ کرنے کے بجائے روایتی اور ناقص تفتیش پر انحصار کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عدالتوں میں مجرم کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش نہیں ہو پاتے۔ مزید برآں، گواہوں کے تحفظ کا کوئی فعال نظام نہ ہونے کی وجہ سے گواہ دباؤ یا خوف کے تحت اپنے بیانات سے مکر جاتے ہیں۔
اس سنگین صورتحال کو بدلنے کے لیے پولیس، عدالتوں اور قانون سازوں کو فوری اور مشترکہ اقدامات کرنے ہوں گے:
پولیس کے لیے: تفتیشی عمل کو مکمل طور پر جدید اور سائنسی خطوط پر استوار کیا جائے۔ واقعے کے فوراً بعد ڈی این اے اور دیگر فرانزک شواہد کو بین الاقوامی معیار کے مطابق محفوظ کرنا لازمی قرار دیا جائے۔
عدالتوں کے لیے: ایسے حساس کیسز کے لیے خصوصی "فاسٹ ٹریک” عدالتیں قائم کی جائیں، جہاں روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو کر تین ماہ کے اندر حتمی فیصلہ سنایا جائے۔
قانون سازوں کے لیے: انسدادِ جنسی زیادتی کے قوانین میں موجود قانونی سقم دور کیے جائیں۔ گواہوں کے تحفظ کا جامع قانون (Witness Protection Program) نافذ کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف سچ بول سکیں۔
جب تک تفتیش سے لے کر سزا پر عمل درآمد تک کا پورا نظام شفاف، تیز رفتار اور اثر و رسوخ سے پاک نہیں ہوگا، تب تک محض سخت قوانین کا وجود جرائم کو روکنے میں ناکام رہے گا۔
