بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر دو مختلف کارروائیوں میں 12 دہشت گردوں کو ہلاک کرتے ہوئے ان کے ایک اہم ٹھکانے کو بھی تباہ کر دیا۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف جاری قومی مہم "ردالفتنہ-3” کے تحت کی گئیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 5 اور 6 اگست کو بلوچستان کے اضلاع واشک اور مستونگ میں تیز رفتار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ کارروائیوں کا ہدف بھارتی پراکسی تنظیم "فتنہ الہندوستان” سے وابستہ دہشت گرد تھے، جن کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق پہلی کارروائی 5 اگست کو ضلع واشک میں کی گئی، جہاں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کے بعد مؤثر انداز میں آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 6 دہشت گرد مارے گئے۔
دوسرا آپریشن 6 اگست کو ضلع مستونگ میں کیا گیا، جہاں سیکیورٹی فورسز کا دہشت گردوں سے شدید مقابلہ ہوا۔ آپریشن کے نتیجے میں مزید 6 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ ان کا ایک محفوظ ٹھکانہ بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ فورسز نے علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی جاری رکھا تاکہ کسی ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ کامیاب کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف قومی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنانا اور بیرونی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کا خاتمہ کرنا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ قومی ایکشن پلان اور "عزمِ استحکام” کے وژن کے تحت پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملک کے امن، سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ایسی کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔
بلوچستان میں دو کارروائیوں کے دوران 12 دہشت گرد ہلاک
