Baaghi TV

7 ستمبر: عقیدۂ ختمِ نبوت اور پاکستان کی آئینی تاریخ،تحریر: پروفیسر حافظ سعیداحمد

قرآن و سنت کی روشنی میں ایک بنیادی اسلامی عقیدہ اور تاریخ ساز آئینی فیصلہ۔

کسی بھی قوم کی تاریخ میں بعض دن محض تاریخ کے صفحات کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے اندر ایک پوری فکری، مذہبی اور قومی جدوجہد کی داستان سموئے ہوتے ہیں۔ 7 ستمبر بھی پاکستان کی تاریخ کا ایسا ہی ایک اہم دن ہے، جسے عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے حوالے سے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔ قرآنِ مجید نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو "خاتم النبیین” قرار دے کر اس عقیدے کو واضح کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾
ترجمہ۔
یعنی: "لیکن وہ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں۔”
(سورۃ الاحزاب: 40)

قرآنِ مجید کی اس صریح ہدایت کی مزید وضاحت خود نبی کریم ﷺ نے فرمائی۔ صحیح بخاری میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
"وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي”
ترجمہ۔
یعنی: "بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں۔”
یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال سے امتِ مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کو منصبِ نبوت پر فائز ہونے کا دعویٰ اسلامی عقیدے کے منافی ہے۔

7 ستمبر 1974ء — پارلیمانی تاریخ کا اہم باب
پاکستان میں عقیدۂ ختمِ نبوت کے حوالے سے 1974ء کا سال ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد معاملہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے سامنے آیا۔ طویل بحث، غور و خوض اور پارلیمانی کارروائی کے بعد 7 ستمبر 1974ء کو دوسری آئینی ترمیم منظور کی گئی، جس کے نتیجے میں قادیانی اور لاہوری گروپ کو آئینِ پاکستان میں غیر مسلم قرار دیا گیا۔ بعد ازاں اس آئینی ترمیم کو صدرِ پاکستان کی منظوری حاصل ہوئی۔
یہ فیصلہ پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی تعلق ریاستی قانون میں مسلمان کی آئینی تعریف اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے حوالے سے تھا۔
1974ء اور 1984ء کے اقدامات میں فرق۔
اس موقع پر ایک تاریخی حقیقت کو درست طور پر سمجھنا بھی ضروری ہے۔ عام طور پر 7 ستمبر کے حوالے سے جن قانونی پابندیوں کا ذکر کیا جاتا ہے، وہ سب 1974ء کی آئینی ترمیم کا حصہ نہیں تھیں۔
1974ء میں آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانی اور لاہوری گروپ کی آئینی حیثیت غیر مسلم قرار دی گئی، جبکہ 1984ء میں مخصوص مذہبی اصطلاحات اور شعائر کے استعمال کے حوالے سے مزید قانونی پابندیاں عائد کی گئیں۔
1984ء کے آرڈیننس کے بعد پاکستان پینل کوڈ میں دفعات 298-B اور 298-C شامل ہوئیں، جن کے تحت قادیانی/لاہوری گروپ سے متعلق بعض مخصوص افعال کو قابلِ تعزیر قرار دیا گیا۔
ان قانونی دفعات میں بالخصوص:
1- اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا؛
-2اپنے مذہب کو اسلام کہنا یا اسلامی شناخت اختیار کرنا؛
-3اپنے مذہب کی تبلیغ یا لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا؛
-4مسلمانوں کے طریقے پر اذان دینا؛
-5اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنا؛
اور بعض اسلامی مذہبی اصطلاحات و القابات کے استعمال سے متعلق پابندیاں شامل ہیں۔
یہاں یہ فرق واضح کرنا اس لیے ضروری ہے کہ تاریخ کو جذبات کے بجائے حقائق اور مستند قانونی حوالوں کے ساتھ بیان کیا جائے۔
ختمِ نبوت کا تحفظ صرف نعرہ نہیں، ذمہ داری ہے
آج 7 ستمبر کے موقع پر ہمیں صرف ماضی کے واقعات یاد کرنے کے بجائے اپنے حال اور مستقبل پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ختمِ نبوت کا عقیدہ ہماری ایمانی شناخت کا حصہ ہے، لیکن اس عقیدے کا تحفظ صرف جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، دلیل اور حسنِ کردار سے ہونا چاہیے۔
ہماری نئی نسل کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ ختمِ نبوت کا عقیدہ قرآن و حدیث سے کس طرح ثابت ہے، امتِ مسلمہ نے اس عقیدے کو کس طرح سمجھا اور پاکستان کی آئینی تاریخ میں اس کی کیا حیثیت ہے۔
ساتھ ہی یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اختلافِ عقیدہ اپنی جگہ، لیکن معاشرے میں امن، قانون کی پاسداری اور انسانی جان و مال کا احترام بھی اسلامی تعلیمات کا بنیادی تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ﴾
ترجمہ۔
"بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔”
(النحل: 90)
لہٰذا عقیدۂ ختمِ نبوت پر کامل ایمان رکھتے ہوئے ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی فرد کے خلاف قانون ہاتھ میں لینا، تشدد کرنا یا بدامنی پیدا کرنا اسلامی تعلیمات نہیں۔ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے عقیدے کا اظہار ہی ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرے کی علامت ہے۔
محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا
7 ستمبر ہمیں صرف ایک آئینی فیصلے کی یاد نہیں دلاتا بلکہ یہ دن ہمیں اپنے ایمان کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ اگر ہم واقعی خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں آپ ﷺ کی سیرت، سنت، اخلاق، عدل، رحمت اور انسانیت کے احترام کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نئی نسل کو نفرت نہیں بلکہ عقیدہ، دلیل اور شعور دیں؛ جذبات کے ساتھ علم دیں؛ اور ختمِ نبوت کے عقیدے کے ساتھ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے اخلاق و کردار کو بھی عام کریں۔

7 ستمبر کا اصل پیغام یہی ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت پر ہمارا ایمان غیر متزلزل ہے، اس عقیدے کا تحفظ ہمارا دینی فریضہ ہے، اور اس کے اظہار کا بہترین راستہ علم، دلیل، قانون اور کردار ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عقیدۂ ختمِ نبوت پر ہمیشہ ثابت قدم رکھے، حضور نبی کریم ﷺ کی سچی محبت و اطاعت نصیب فرمائے اور پاکستان کو امن، اتحاد اور خوشحالی عطا فرمائے۔

More posts