سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے معروف ٹی وی میزبان تابش ہاشمی کے سندھ کی حکمرانی سے متعلق ریمارکس پر شدید ردعمل دیا ہے-
سینئر وزیر شرجیل میمن نے حالیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ٹی وی پروگرام میں دیے گئے ایسے بیانات نہ صرف سندھ کے عوام کی توہین ہیں بلکہ یہ آئینی اور انتظامی امور سے لاعلمی کا بھی واضح ثبوت ہیں، تابش ہاشمی نے ایک حساس معاملے پر بغیر مکمل معلومات کے تبصرہ کیا، جس سے عوام میں گمراہ کن تاثر پیدا ہوا، سندھ ایک آئینی صوبہ ہے اور اس کی حکمرانی کا نظام واضح قوانین اور جمہوری ڈھانچے کے تحت چلتا ہے، جسے مذاق یا غیر سنجیدہ گفتگو کا موضوع نہیں بنایا جا سکتا۔
سینئر وزیر نے واضح کیا کہ میڈیا پر بیٹھ کر سندھ یا کراچی کو پرائیوٹائز کرنے جیسے بیانات دینا نہ صرف غیر سنجیدہ ہے بلکہ یہ عوامی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف بھی ہےکراچی پورے سندھ کا دل ہے اور اس کے مسائل کا حل سنجیدہ پالیسی، وسائل اور اجتماعی کوششوں سے ممکن ہے، نہ کہ ٹی وی شوز میں دیے گئے سطحی تبصروں سے۔
بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدے سے جوڑنا غلط فہمی ہے،ترجمان دفتر خارجہ
شرجیل میمن نے متعلقہ ٹی وی چینل سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پروگرام کے مواد کا نوٹس لے اور مستقبل میں ایسے بیانات کی روک تھام کے لیے ادارتی اقدامات کرے،میڈیا کو چاہیے کہ وہ ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دے اور عوامی مسائل کو تفریح کے بجائے سنجیدگی کے ساتھ پیش کرے۔
واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب تابش ہاشمی نے ایک پروگرام میں گل پلازا میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد سندھ حکومت اور کراچی کی گورننس پر سوالات اٹھائے اور شہر کو مختلف انداز میں چلانے کی تجویز دی، جس پر سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
