Baaghi TV

آبنائے ہرمز کشیدگی، بھارت نے اپنے سمندری عملے کو سفر سے روک دیا

‎مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بھارت نے ایک اہم حفاظتی فیصلہ کرتے ہوئے اپنے بحری عملے کو آئندہ احکامات تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر تعینات نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
‎بھارتی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ خطے میں موجود غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال اور حالیہ ڈرون حملوں کے پیش نظر بھارتی ملاحوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ اسی لیے تمام جہاز مالکان اور شپنگ آپریٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی بھی بھارتی سی فیئرر کو تعینات نہ کریں، یہ پابندی اگلے احکامات تک برقرار رہے گی۔
‎بھارتی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ان حالیہ واقعات کے بعد کیا گیا ہے جن میں آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف تجارتی جہازوں کو ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حملوں میں دو بھارتی ملاح جان کی بازی ہار گئے تھے، جس کے بعد حکومت نے سمندری عملے کی سلامتی کے حوالے سے ہنگامی اقدامات شروع کیے۔
‎بھارت دنیا بھر میں سمندری عملہ فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تین لاکھ سے زائد بھارتی ملاح مختلف بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کے جہازوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے میں آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے پر پابندی کا فیصلہ نہ صرف بھارتی سمندری صنعت بلکہ عالمی شپنگ سرگرمیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
‎دوسری جانب فارورڈ سی مینز یونین آف انڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت تقریباً پندرہ ہزار بھارتی ملاح آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں موجود مختلف جہازوں پر تعینات ہیں۔ یونین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان ملاحوں کی محفوظ واپسی اور ان کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ اس راستے پر کشیدگی بڑھنے کی صورت میں نہ صرف عالمی تجارت بلکہ توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

More posts