ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر ایران میں جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوجی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور عالمی برادری کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔
اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ انہیں جنگی جرائم کے زمرے میں شمار کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی خودمختار ملک پر اس نوعیت کی فوجی کارروائیاں عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی روح کے منافی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان حملوں پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے مؤثر کردار ادا کرے اور ان افراد یا اداروں کا احتساب یقینی بنائے جو ان کارروائیوں کے ذمہ دار ہیں۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی اور سفارتی راستہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے باعث امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائیں اور حقائق دنیا کے سامنے لائیں تاکہ بین الاقوامی قانون کی بالادستی برقرار رکھی جا سکے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مسائل کا حل سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے تمام ممالک کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔
امریکا کے حملے جنگی جرائم ہیں، عالمی برادری ذمہ داروں کا احتساب کرے: عباس عراقچی
