سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت محدود وسائل کے باوجود عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور شفاف طرز حکمرانی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
سندھ اسمبلی اجلاس خطاب میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کے لیے آسان تھا کہ بی آر ٹی بناتے ہی نہیں، بسیں خریدنا آسان اور انفرااسٹرکچر بنانا مشکل کام ہوتا ہے بی آر ٹی کانٹریکٹر کو ایڈوانس پیمنٹ کرنے پر بی آر ٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر کے خلاف ایکشن لیا پیپلز بس سروس کے تحت روز 1 لاکھ 25 ہزار مسافر سفر کرتے ہیں، آئندہ 2، 3 ماہ میں مزید 500 ای وی بسیں لے کر آرہے ہیں ڈبل ڈیکر بسیں لارہے ہیں، صوبے میں پنک اسکوٹی کا انقلاب آچکا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سوشل میڈیا مانیٹرنگ کے لیے اے آئی سے مدد لے رہے ہیں، سندھ واحد صوبہ ہے جس نے جرنلسٹس پروٹیکشن بل بنایا، پنجاب کی اعلیٰ حکومتی شخصیت کی زبان پھسلنے پر ادا جملے کا ٹوئٹ کرنے پر صحافی گرفتار ہوا، سندھ حکومت نے کسی صحافی پر پیکا ایکٹ نہیں لگایا، تنقید ضرور ہونی چاہیے لیکن غیر مصدقہ خبروں اور من گھڑت پروپیگنڈ ے سے گریز کیا جائے ملک غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے اور تمام صوبوں نے اپنی ترقی سے بڑھ کر وفاق کی مضبوطی اور قومی استحکام کو ترجیح دی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت محدود وسائل کے باوجود عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور شفاف طرز حکمرانی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے حکومت سندھ فلم، ڈرامہ اور دستاویزی فلموں کے ذریعے سندھ کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے لا رہی ہے جبکہ ’آئی ورک فار سندھ‘ پلیٹ فارم پر 48 لاکھ سے زائد افراد وزٹ اور ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ نوجوان رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یلو لائن، ریڈ لائن اور اورنج لائن بی آر ٹی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، گرین لائن کی یومیہ رائیڈرشپ 53 ہزار سے بڑھ کر 78 ہزار جبکہ اورنج لائن کی 1800 سے بڑھ کر 8500 تک پہنچ چکی ہے سندھ ریونیو بورڈ نے محدود افرادی قوت کے باوجود محصولات میں 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جبکہ صوبے میں 3 ہزار 114 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و بحالی مکمل کی گئی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں 97 ہزار اساتذہ کی بھرتیاں مکمل شفافیت اور میرٹ پر کی گئیں اور اس عمل پر کسی قسم کی سفارش یا سیاسی مداخلت کی شکایت سامنے نہیں آئی تھر کول منصوبے سے اس وقت 3960 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو رہی ہے جبکہ سیلاب متاثرین کے لیے دنیا کے سب سے بڑے ہاؤسنگ منصوبے کے تحت 21 لاکھ مکانات تعمیر کیے جا رہے ہیں، جن کی ملکیت خواتین کے نام منتقل کی جا رہی ہے۔
