وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے بات کرنے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے تھے تاہم انہیں چیف جسٹس کے سیکرٹری سے ملاقات کے لیے سیکرٹری کے آفس میں آنے کا پیغام دیا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تاکہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے مقدمات کی سماعت جلد از جلد ہونے اور بعض متفرق درخواستوں و ضمانت کی درخواستوں کو جلد از جلد مقرر کرنے کے حوالے سے بات کر سکیں۔
وزیراعلیٰ کو چیف جسٹس کے سیکریٹری نے ملاقات کے لیے سیکریٹری آفس میں آنے کی ہدایت دی، لیکن انہوں نے جواب دیا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز نہیں لگ رہے، میں اوپن کورٹ میں ہی بات کروں گا۔ اس موقع پر عمران خان کی بہنیں عظمیٰ خان، نورین خان اور علیمہ خان بھی عدالت میں موجود تھیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات ممکن نہیں تھی، اسی لیے میں رمضان کے روزے کی حالت میں روسٹرم پر گیا اور انہیں سلام کیا، مگر انہوں نے سلام کا جواب بھی نہیں دیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی احتجاجی یا انتشاری سیاست نہیں کرتی، بلکہ تمام آپشنز استعمال کرنے کے بعد پرامن احتجاج کرتی ہے، جو ہمارا حق ہےسوا گھنٹہ انتظار کے باوجود چیف جسٹس نے سلام کا جواب تک نہیں دیا، جبکہ شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹرز سے طبی معائنہ کی درخواست بھی سماعت کے لیے نہیں لگی۔
اسی دوران سہیل آفریدی کی ہائی کورٹ کوریڈور میں ویڈیو بنانے پر ایک شخص سے موبائل فون چھین لیا گیاپولیس نے وزیراعلیٰ کی روانگی کی ویڈیو بنانے پر ان کے ساتھ آنے والے شخص سے موبائل چھین کر ویڈیو ڈیلیٹ کروائی ویڈیو ڈیلیٹ کروانے کے بعد متعلقہ شخص کو موبائل فون واپس کر دیا گیا۔
