کولمبو: سری لنکا کے انسدادِ بدعنوانی کے حکام نے سابق صدر مہندا راجاپاکسا کے بیٹے اور رکنِ پارلیمنٹ نامال راجاپاکسا کو ایئربس طیاروں کے معاہدے میں مبینہ طور پر 8 لاکھ ڈالر رشوت وصول کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کولمبو کے چیف مجسٹریٹ اسانگا بوداراگاما نے 40 سالہ نامال راجاپاکسا کو مزید تحقیقات کے لیے دو ہفتے کے جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔نامال راجاپاکسا کو سری لنکا کے کمیشن ٹو انویسٹی گیٹ الیگیشنز آف برائبری یا کرپشن (CIABOC) نے 2.3 ارب ڈالر کے ایئربس معاہدے سے متعلق پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کیا۔ تفتیشی حکام نے عدالت کو بتایا کہ نامال کو مبینہ طور پر 8 لاکھ ڈالر اس رقم میں سے دیے گئے جو یورپی طیارہ ساز کمپنی کی جانب سے سری لنکن سیاست دانوں اور حکام کو معاہدہ حاصل کرنے کے لیے ادا کی گئی تھی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ایک سری لنکن کاروباری شخصیت نے سنگاپور کے دو بینک اکاؤنٹس کے ذریعے یہ رقم نامال راجاپاکسا تک منتقل کرنے کا انتظام کیا تھا۔ نامال کے وکیل نشنانتھا دیاناندا نے ضمانت کی درخواست کی، تاہم عدالت نے اسے مسترد کردیا۔انسدادِ بدعنوانی کی تحقیقات میں سابق صدر مہندا راجاپاکسا بھی شامل ہیں۔ حکام نے رواں سال مئی میں ان سے بھی مبینہ طور پر طیاروں کی خریداری میں کمیشن وصول کرنے کے الزامات پر پوچھ گچھ کی تھی۔ یہ معاہدہ بعد ازاں 2016 میں نئی حکومت نے منسوخ کردیا تھا۔تحقیقات کے مطابق ایئربس نے سری لنکا میں مبینہ طور پر تقریباً 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رشوت دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جس میں سے تقریباً 17 لاکھ ڈالر سری لنکن ایئرلائنز کے سابق چیف ایگزیکٹو کپیلا چندراسینا تک پہنچائے گئے۔
کپیلا چندراسینا نے مارچ میں تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ انہوں نے 2013 میں سابق صدر مہندا راجاپاکسا کو تقریباً 60 ملین سری لنکن روپے، جو اس وقت تقریباً 4 لاکھ 61 ہزار ڈالر بنتے تھے، تین اقساط میں ادا کیے تھے۔ تاہم بعد میں انہوں نے اپنا بیان واپس لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ بیان دباؤ کے تحت لیا گیا تھا۔چندراسینا مئی میں دوبارہ گرفتاری سے کچھ ہی عرصہ قبل ایک رشتہ دار کے گھر مردہ پائے گئے تھے۔ ان کی موت کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی۔
امریکا، برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایئربس نے سری لنکا میں رشوت کی ادائیگی پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ یہ معاملہ سابق صدر مہندا راجاپاکسا کے 2005 سے 2015 تک صدر رہنے کے دوران 10 ایئربس طیاروں کی خریداری سے متعلق ہے، جس کے لیے کابینہ کی منظوری ضروری تھی۔راجاپاکسا خاندان نے رشوت وصول کرنے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے بدعنوانی کے مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر کارروائی قرار دیا ہے۔دوسری جانب سری لنکن ایئرلائنز کو تقریباً 2 ارب ڈالر کے مجموعی خسارے کا سامنا ہے، جبکہ بھاری قرضوں میں ڈوبی قومی فضائی کمپنی کی نجکاری کی متعدد کوششیں بھی ناکام ہوچکی ہیں۔
